چونکہ ٹیسٹ میچ پانچ دنوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ایک ہی گیند استعمال نہیں کی جا سکتی۔ اسی وجہ سے گیند کی تبدیلی کے کچھ اصول طے کیے گئے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سرخ گیند ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے سے استعمال ہو رہی ہے۔ سرخ چمڑے کی یہ گیند کھیل کے سب سے طویل فارمیٹ کی علامت بن چکی ہے۔

ہر ٹیسٹ اننگز کا آغاز ہمیشہ ایک نئی گیند سے ہوتا ہے۔ نئی گیند فاسٹ بولرز کو سوئنگ اور باؤنس فراہم کرتی ہے، جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ جیسے ہی گیند پرانی ہونے لگتی ہے، اسپنرز اس سے مدد حاصل کرتے ہیں۔

تاہم، ایک گیند پوری اننگز میں  اپنی اصلی صورت برقرار نہیں رکھ سکتی۔ کھیل کے دوران گیند کا چمڑا خراب ہو سکتا ہے، سیون کمزور پڑ سکتا ہے یا بعض اوقات گیند اپنی اصلی شکل ہی کھو بیٹھتی ہے، ایسے میں گیند کی تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ لیکن کیا وہ نئی گیند ہو گی یا نہیں؟ اس سوال کا جواب ابھی باقی ہے۔


ٹیسٹ کرکٹ قوانین کے مطابق، فیلڈنگ سائیڈ کو ہر 80 اوورز کے بعد نئی گیند لینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ یہ اختیار فیلڈنگ سائیڈ کو صرف 80 اوورز ہو جانے کے بعد ہی حاصل ہے اس سے پہلے نہیں، لیکن 80 اوورز مکمل ہو جانے کے بعد ٹیم کی مرضی ہے کہ وہ گیند کب لینا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی ٹیسٹ: پہلے دن کے اختتام پر پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف پانج وکٹوں کے نقصان پر 259 رنز بنا لیے

 اگر ٹیم کو محسوس ہوتا ہے کہ پرانی گیند سے ریورس سوئنگ یا اسپنرز کو مدد مل رہی ہے تو وہ نئی گیند لینے میں تاخیر کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر نئی گیند سے فاسٹ بولرز کو فائدہ پہنچنے کی امید ہو تو کپتان فوراً نئی گیند کا انتخاب کر سکتا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں گیند کا ضائع ہونا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، کیونکہ بلے باز اکثر گیند کو اتنی دور نہیں مارتے جتنی ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے میچوں میں مارتے ہیں۔ تاہم، اگر گیند کھو جائے، پھٹ جائے یا شدید خراب ہو جائے تو امپائر متبادل گیند فراہم کرتے ہیں۔

 اس صورت میں نئی گیند نہیں دی جاتی بلکہ ایسی گیند دی جاتی ہے جو پچھلی گیند کی حالت سے قریب ترین ہو تاکہ کھیل کا توازن متاثر نہ ہو۔


اگر امپائر محسوس کریں کہ گیند اپنی شکل کھو چکی ہے تو وہ بال گیج کے ذریعے اس کی پیمائش کرتے ہیں۔ بال گیج میں دو دھات کے حلقے ہوتے ہیں، ایک سے گیند گزرنی چاہیے جب کہ دوسرے سے نہیں۔ 

اگر گیند دونوں سے گزر جائے یا دونوں سے نہ گزرے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ گیند نے اپنی درست شکل کھو دی ہے اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی اس کے تبدیل ہونے کی ایک بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ اگر کسی کھلاڑی پر الزام ہو کہ وہ گیند کو ناخن، دانت، کسی سخت چیز یا ممنوعہ  طریقے سے خراب کر رہا ہے، تو امپائر فوراً گیند بدلنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ 

ایسی صورت میں مخالف ٹیم کو پانچ رنز کا جرمانہ دیا جاتا ہے، جب کہ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کھلاڑی کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔ ماضی میں آسٹریلیا کے 2018ء کے سینڈ پیپر واقعے نے اسی قانون کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آصف آفریدی پاکستان کے لیے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے دوسرے عمر رسیدہ کھلاڑی بن گئے

بعض اوقات موسمی اثرات یا نمی بھی گیند کی حالت متاثر کر دیتے ہیں۔ اگر بارش یا میدان کی نمی کی وجہ سے گیند کھیل کے معیار پر پورا نہیں اترتی تو اُن فیلڈ دونوں امپائر مل کر فیصلہ کر کے گیند تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن ایسی ہی گیند دی جاتی ہے جو پرانی گیند کی حالت کے قریب ہو نئی گیند پھر بھی نہیں دی جا سکتی۔

جب گیند کی تبدیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو چوتھا امپائر میدان میں موجود استعمال شدہ گیندوں کے باکس کے ساتھ آتا ہے۔ امپائر اس باکس سے ایسی گیند منتخب کرتے ہیں جو پرانی گیند کی حالت سے زیادہ سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو۔ اس طرح دونوں ٹیموں کے درمیان انصاف برقرار رہتا ہے۔


گیند کو تبدیل کرنے کا حتمی اختیار ہمیشہ آن فیلڈ امپائروں کے پاس ہوتا ہے۔ نہ بیٹنگ ٹیم اور نہ ہی باؤلنگ سائیڈ اپنی مرضی سے گیند بدلنے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ البتہ اگر گیند واقعی خراب ہو، اپنی شکل کھو دے یا چھیڑ چھاڑ ثابت ہو جائے تو امپائر بلا تاخیر کارروائی کرتے ہیں۔

تو ایک بات جو سب سے نمایاں ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں نئی گیند صرف 80 اوورز کے بعد ہی تبدیل کی جاسکتی ہے، باقی جتنی بھی صورتحال ہیں اس میں نئی گیند کے بجائے استعمال شدہ گیند ہی دی جا سکتی ہے۔