پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم ٹیم کو 35 رنز کے مجموعے پر پہلا نقصان اٹھانا پڑا جب اوپنر امام الحق 17 رنز بنا کر اسپنر سائمن ہارمر کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔

دوسری وکٹ 57 کے مجموعے پر گری، جب عبداللہ شفیق بھی ہارمر کی ہی گیند پر 57 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کپتان شان مسعود نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی اور اننگز کو مستحکم کیا۔

چوتھے نمبر پر آنے والے بابر اعظم ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ جنوبی افریقہ کا ایک ریویو ضائع ہونے کے فوراً بعد، اسپنر کیشو مہاراج کی اگلی ہی گیند پر سلی مڈ آف پر کھڑے ٹونی ڈی زورزی نے شاندار کیچ پکڑ کر بابر کو 16 رنز پر پویلین بھیج دیا۔

چائے کے وقفے تک پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بنائے تھے۔ بعدازاں کپتان شان مسعود 87 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد مہاراج کی گیند پر مارکو جینسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

وکٹ کیپر محمد رضوان بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور دوسری نئی گیند لینے کے فوراً بعد 19 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ دن کے اختتام پر سعود شکیل 42 اور سلمان علی آغا 10 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے سائمن ہارمر اور کیشو مہاراج نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جب کہ کاگیسو ربادا نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے قبل، پاکستان نے ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی فاسٹ بولر حسن علی کی جگہ لیفٹ آرم اسپنر آصف آفریدی کو شامل کیا گیا۔

مہمان ٹیم جنوبی افریقہ میں دو تبدیلیاں کی گئیں، ویان ملڈر اور پرینیلن سبریان کی جگہ مارکو جینسن اور کیشو مہاراج کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

قومی ٹیم میں عبداللہ شفیق، امام الحق، کپتان شان مسعود، بابر اعظم، سعود شکیل، محمد رضوان، سلمان علی آغا، نعمان علی، ساجد خان، آصف آفریدی اور شاہین شاہ آفریدی  پلیئنگ الیون کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ کی ٹیم ایڈن مارکرم، ریان رکلٹن، ٹرسٹن اسٹبز، ٹونی ڈی زورزی، ڈیوالڈ بریوس، کائل ویریین، سینوران متھوسوامے، مارکو جینسن، سائمن ہارمر، کیشو مہاراج اور کاگیسو ربادا پر مشتمل ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کو 93 رنز سے شکست دے کر سریز میں ایک صفر سے  برتری حاصل کی ہوئی ہے۔