سری لنکا کرکٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دھنانجایا ڈی سلوا نے سلیکشن کمیٹی کو خط لکھ کر اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خیال میں اب قیادت کی ذمہ داری اگلی نسل کے کھلاڑیوں کو منتقل کرنے کا وقت آگیا ہے۔

دھنانجایا ڈی سلوا نے واضح کیا کہ کپتانی چھوڑنے کے باوجود وہ سری لنکا کی نمائندگی بطور کھلاڑی جاری رکھیں گے، قومی ٹیم کے لیے کھیلنا ان کے لیے بدستور اہم ہے اور وہ آئندہ بھی اپنی صلاحیتوں اور تجربے کے ذریعے ٹیم کی خدمت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ایشلے ڈی سلوا نے دھنانجایا ڈی سلوا کے کپتانی کے دوران کردار اور خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا، بورڈ ان کے مستقبل کے کیریئر کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے اور بطور کھلاڑی بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا منتظر ہے۔

دھنانجایا ڈی سلوا کی جانب سے ٹیسٹ کپتانی سے علیحدگی کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سری لنکا کو پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنی ہے۔ اس سیریز کے باعث سری لنکن ٹیم کے لیے نئی قیادت کا معاملہ خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

شیڈول کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ 9 نومبر کو راولپنڈی کے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ 17 نومبر سے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے نئے کپتان اور اسکواڈ کا باضابطہ اعلان کرنا ہے، کوشل مینڈس کو ٹیسٹ ٹیم کی عبوری قیادت سونپنے پر غور کیا جارہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ سری لنکا کرکٹ کی جانب سے باضابطہ اعلان کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

دھنانجایا ڈی سلوا کی دستبرداری کے بعد سری لنکن ٹیم کو نہ صرف نئی قیادت کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے بلکہ آنے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم کے امتزاج اور ذمہ داریوں کی تقسیم بھی اہم معاملہ ہوگی۔

سری لنکا کرکٹ کے مطابق دھنانجایا ڈی سلوا نے قیادت سے علیحدگی کے باوجود قومی ٹیم کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، آئندہ ٹیسٹ میچز میں سری لنکن ٹیم کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیم کو نئی قیادت کے تحت میدان میں اترنا ہوگا۔

پاکستان اور سری لنکا کی آئندہ ٹیسٹ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے اہم ہوگی، جبکہ سری لنکا کو نئے کپتان کے ساتھ میدان میں اترنے کا چیلنج بھی درپیش ہوگا۔ نئی قیادت کی تقرری اور اسکواڈ کے اعلان کے بعد سیریز کے لیے سری لنکن ٹیم کی حکمت عملی مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔