نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق محمد رضوان کو انگلینڈ میں ہوٹل کے کمرے سے اٹھا کر لابی میں بلایا گیا، جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا ایک آفیشل اور ایک نامعلوم شخص موجود تھا۔ وہاں رضوان سے آن لائن بیٹنگ کمپنیوں اور سٹے بازی سے متعلق سوالات کیے گئے اور ان سے موبائل فون طلب کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان نے کئی مرتبہ موبائل فون دینے سے انکار کیا اور سوال کیا کہ فون کیوں لیا جا رہا ہے اور ان پر کیا الزامات ہیں۔ تاہم بار بار اصرار کے بعد رضوان سے کہا گیا کہ ’پاکستان کی خاطر آپ اپنا موبائل دے دیں‘، جس پر انہوں نے موبائل فون دینے پر رضامندی ظاہر کردی۔

ذرائع کے مطابق رضوان کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ موبائل فون چند گھنٹوں میں واپس کردیا جائے گا۔ چونکہ اگلے روز ان کی وطن واپسی کی فلائٹ تھی، اس لیے رضوان نے موبائل فون کے بغیر واپس آنے پر اعتراض کیا اور ٹیم منیجر سے بار بار فون کے بارے میں دریافت کیا، تاہم انہیں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا۔

بعد ازاں محمد رضوان کو معلوم ہوا کہ ان کا موبائل فون نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور پہنچ چکا ہے اور تاحال انہیں واپس نہیں کیا گیا۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے محمد رضوان اور امام الحق کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کر رہی ہے۔ تحقیقات میں مالی معاملات، مبینہ آن لائن بیٹنگ اور انگلینڈ کے دورے کے دوران ڈریسنگ روم سے معلومات کے مبینہ اخراج سمیت مختلف پہلو زیرِ غور رہے ہیں۔

رضوان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں تحقیقات سے نہیں بلکہ تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔ ذرائع کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت سکیورٹی یا ٹیم منیجر کھلاڑی کا موبائل فون لے سکتا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ موبائل فون لینے کے بعد معائنے کی تحریری رپورٹ، وجوہات اور فون قبضے میں لینے کی رسید کہاں ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر کارروائی آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت کی گئی تو تحریری مطالبہ کہاں ہے اور اگر آئی سی سی کاڈ استعمال نہیں ہوا تو موبائل فون کس اختیار کے تحت تحویل میں لیا گیا؟

محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کو جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بھی موبائل فون واپس نہ کیے جانے اور انہیں طلب کیے جانے کی وجوہات پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔

ذرائع نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر چند گھنٹوں میں موبائل فون واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تو اسے ملک سے باہر منتقل کرکے ہفتوں تک تحویل میں کیوں رکھا گیا؟ لندن میں موبائل فون لیتے وقت کیا میٹروپولیٹن پولیس یا برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو مطلع کیا گیا؟ کیا کسی برطانوی ادارے یا عدالت کی جانب سے وارنٹ، عدالتی درخواست یا قانونی منظوری موجود تھی؟

ذرائع کے مطابق اگر معاملہ کسی بین الاقوامی میچ میں کرپشن سے متعلق تھا تو آئی سی سی کو اس حوالے سے کب مطلع کیا گیا، یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

دوسری جانب محمد رضوان نے اب آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ سے بھی معاملے کے طریقہ کار پر رہنمائی طلب کرلی ہے۔ رپورٹس کے مطابق رضوان نے آئی سی سی سے پوچھا ہے کہ ان کا موبائل فون طلب کرنا، اسے برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنا اور اس کا فرانزک معائنہ آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے مطابق تھا یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ آیا آئی سی سی یا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن حکام کو اس کارروائی کا علم تھا یا وہ اس میں شامل تھے۔

رضوان نے آئی سی سی سے مستقبل میں اینٹی کرپشن حکام کے ساتھ تعاون کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں اور طریقہ کار کی وضاحت بھی طلب کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی درخواست کسی فرد یا ادارے کے خلاف شکایت نہیں بلکہ کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت حاصل کرنے کے لیے ہے۔

مسجد جانے سے متعلق سوال پر بھی رضوان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کس مخصوص دن، وقت، پریکٹس یا ٹیم میٹنگ کو چھوڑ کر ڈسپلن یا سکیورٹی کی خلاف ورزی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بیٹنگ پلیٹ فارمز سے متعلق سنگین تحقیقات کی جا رہی ہیں تو دو سابق کھلاڑیوں کے لیے اصول یکساں کیوں نہیں؟ رضوان ان تمام سوالات کے تحریری جوابات کے منتظر ہیں، جن کے بارے میں ذرائع کے مطابق تاحال پی سی بی، انگلینڈ کرکٹ بورڈ، آئی سی سی یا برطانوی پولیس کی جانب سے انہیں واضح جواب نہیں ملا۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ نے 17 ستمبر کو محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کے نوٹسز اور تحقیقات کو چیلنج کرنے والی درخواست خارج کردی تھی۔ عدالت نے رضوان کو ہدایت کی کہ وہ پہلے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب دیں۔