رونالڈو کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیوں میں اس وقت اضافہ ہوا جب النصر کو اے ایف سی چیمپئنز لیگ ایلیٹ کے ابتدائی میچ میں العین کے ہاتھوں 4-0 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 15 ستمبر کو کھیلے گئے میچ میں العین نے ہسین رحیمی کے دو، سوفیانے رحیمی اور جارجیوس گیکوماکیس کے ایک ایک گول کی بدولت کامیابی حاصل کی۔
اس شکست کے بعد النصر کی موجودہ فارم بھی زیرِ بحث ہے۔ ٹیم گزشتہ چار میچوں میں صرف ایک کامیابی حاصل کرسکی ہے، جب کہ العین کے خلاف 4-0 کی شکست رونالڈو کے سعودی دور میں بھاری شکستوں میں سے ایک رہی۔
میچ میں رونالڈو نے گول پر 5 کوششیں کیں، تاہم ان میں سے صرف ایک شاٹ نشانے پر تھا جسے العین کے گول کیپر خالد عیسیٰ نے روک لیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق النصر ترجمان اور سعودی اسپورٹس صحافی سعود السرامی نے دعویٰ کیا ہے کہ رونالڈو جنوری کی ٹرانسفر ونڈو کے دوران النصر چھوڑ سکتے ہیں۔
السرامی نے العربیہ ایف ایم سے گفتگو میں رونالڈو کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں النصر کے لیے ایک ’تھکا ہوا اثاثہ‘ قرار دیا اور کہا کہ سردیوں کی ٹرانسفر ونڈو میں کلب کے تکنیکی مسائل حل کرنے میں رونالڈو کا کردار نہیں ہوگا۔
سعودی صحافی نے رونالڈو کی ممکنہ روانگی کا موازنہ سابق النصر کھلاڑی کریم بینزیما کے کلب چھوڑنے سے بھی کیا، تاہم ان کے مطابق حتمی فیصلہ خود رونالڈو کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق رونالڈو کی جانب سے النصر چھوڑنے یا جنوری میں کسی دوسرے کلب میں منتقل ہونے کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے یہ معاملہ فی الحال ایک صحافی کے دعوے تک محدود ہے۔
رونالڈو نے گزشتہ ماہ ووگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی اپنے فٹبال کیریئر کے اختتام کی طرف اشارہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 2026-27 سیزن ان کے کیریئر کا آخری سیزن ہوسکتا ہے اور وہ کھیل سے رخصت ہوتے وقت ایک شاندار ورثہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔
اس صورتحال میں النصر کے ساتھ ان کا مستقبل خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، خصوصاً چیمپئنز لیگ میں بھاری شکست اور ٹیم کی حالیہ کارکردگی کے بعد۔
تاہم فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق رونالڈو کے النصر سے جنوری میں علیحدہ ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مستقبل کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں کلب، کھلاڑی اور ممکنہ طور پر ٹرانسفر مارکیٹ سے متعلق پیش رفت کے بعد واضح ہوگا۔







