برطانوی میڈیا کے مطابق دوسری اننگز میں پاکستان کی آخری 8 وکٹیں محض 74 رنز پر گر گئیں، جو ٹیم کی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت میں واضح کمی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
رپورٹ میں موجودہ بیٹنگ لائن کا ماضی کے عظیم پاکستانی بلے بازوں کے مقابلے میں جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ ٹیم کی بیٹنگ میں مستقل مزاجی اور تکنیکی پختگی کا فقدان نمایاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اہم مواقع پر غیر ذمہ دارانہ شاٹ سلیکشن نے بھی پاکستان کو مشکلات سے دوچار کیا، جس کے نتیجے میں ٹیم بڑا اسکور بنانے میں ناکام رہی۔
برطانوی میڈیا نے پاکستان کے فاسٹ بولنگ اٹیک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو شعبہ طویل عرصے تک پاکستانی کرکٹ کی سب سے بڑی طاقت رہا، موجودہ دور میں وہ پہلے جیسی دھاک قائم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ہیڈنگلے کی نسبتاً خشک پچ پر بھی پاکستانی بولرز انگلش بلے بازوں کو خاطر خواہ پریشانی میں مبتلا نہ کر سکے۔ ماضی میں وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے فاسٹ بولرز پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے، تاہم موجودہ بولنگ اٹیک میں رفتار اور سوئنگ کا وہ معیار دکھائی نہیں دیتا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پاکستان کی فیلڈنگ بھی ٹیم کی کمزوریوں میں شامل رہی، جہاں متعدد مس فیلڈز اور کیچز ڈراپ ہونے کے باعث انگلینڈ کو اضافی رنز بنانے کے مواقع ملے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جو روٹ، ہیری بروک اور ڈین لارنس جیسے انگلش بلے بازوں کو ملنے والے مواقع نے میزبان ٹیم کو فائدہ پہنچایا۔
رپورٹ میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی، فیلڈ سیٹنگ اور سلیکشن پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ٹیم میں مستقل مزاجی کا فقدان اور بار بار کی تبدیلیاں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔
تاہم رپورٹ میں محمد رضوان کی وکٹ کیپنگ اور پاکستانی اسپنرز کی جوڑی کو ٹیم کے لیے مثبت پہلو قرار دیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یہ کھلاڑی پاکستان کرکٹ میں ماضی کی جارحانہ اور مسابقتی کرکٹ کی جھلک واپس لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔







