یہ معاہدہ انہیں تاریخ کا مہنگا ترین افریقی فٹبالر بناتا ہے، جب کہ وہ ریال میڈرڈ کی تاریخ کے بھی سب سے مہنگے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ لیکن دیومانڈے کی کہانی صرف کروڑوں ڈالر کے ایک ٹرانسفر کی داستان نہیں۔
یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جس نے آئیوری کوسٹ کے مٹی کے میدانوں سے امریکا، پھر اسپین اور جرمنی کا سفر طے کیا، راستے میں کئی ناکام ٹرائلز دیکھے، اپنی بہن کو کھویا اور بالآخر دنیا کے سب سے بڑے فٹبال کلبوں میں سے ایک تک پہنچ گیا۔
مٹی کے میدانوں سے خواب کا آغاز
دیومانڈے آئیوری کوسٹ کے شہر آبیدجان میں ایک سادہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے فٹبال ان کی زندگی کا حصہ تھا اور وہ اکثر صرف سفید سینڈل پہن کر مٹی کے میدانوں میں فٹبال کھیلتے نظر آتے تھے۔
گیند کو انتہائی طاقت سے کک لگانے کی صلاحیت کے باعث انہیں برازیل کے لیجنڈری فٹبالر روبرٹو کارلوس کے نام پر پکارا جانے لگا۔
مزید پڑھیں: ایران میں ہیرو سے 'غدار' تک؛ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل تک پہنچنے والے ریفری علیرضا فقانی کون ہیں؟
وقت کے ساتھ ان کا شوق باقاعدہ کھیل میں تبدیل ہوا۔ مقامی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے دیومانڈے نے اپنے دوستوں سے کہنا شروع کردیا تھا کہ وہ ایک دن کرسٹیانو رونالڈو بنیں گے۔
15 برس کی عمر میں ان کی زندگی کا رخ اس وقت بدل گیا جب انہوں نے گھانا میں ایک انڈر 17 ٹورنامنٹ میں آئیوری کوسٹ کی نمائندگی کی۔ یہاں ان کی صلاحیت نے دنیا بھر کے اسکاؤٹس کی توجہ حاصل کرلی۔ اچانک وہ ایک باصلاحیت بچے سے فٹبال مارکیٹ میں انتہائی مطلوب نوجوان بن گئے۔
15 سال کی عمر میں امریکا روانگی
دیومانڈے کو امریکا کی ریاست فلوریڈا کے شہر ڈیٹونا بیچ میں قائم ڈی ایم ای اکیڈمی جانے کا موقع ملا۔ صرف 15 سال کی عمر میں وہ ایک سوٹ کیس اور فٹبال کے خواب کے ساتھ اپنے گھر اور خاندان کو چھوڑ کر امریکا روانہ ہوگئے۔
اس وقت وہ انگریزی نہیں بول سکتے تھے۔ ڈی ایم ای اکیڈمی کے ڈائریکٹر ٹوڈ ایسن نے انہیں ایئرپورٹ سے وصول کیا اور وقت کے ساتھ ان کے لیے والد کی طرح کا کردار اختیار کرلیا۔
اکیڈمی میں دیومانڈے نے فٹبال کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی، انگریزی سیکھی اور امریکی معاشرے سے ہم آہنگ ہونا شروع کیا۔
ایسن کے مطابق دیومانڈے صرف رفتار میں ہی دوسروں سے آگے نہیں تھے بلکہ گیند کے ساتھ ان کی سمجھ اور کھیل کو پڑھنے کی صلاحیت بھی غیر معمولی تھی۔
یورپی کلبوں نے بار بار مسترد کیا
دیومانڈے نے امریکا میں نمایاں کارکردگی دکھائی لیکن یورپ پہنچنے کا راستہ آسان نہیں تھا۔ انہوں نے مختلف کلبوں میں ٹرائلز دیے، جن میں بورن ماؤتھ، چیلسی، رینجرز، اولمپیاکوس اور کرسٹل پیلس شامل تھے، مگر کسی نے انہیں مستقل طور پر سائن نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: رونالڈو فٹبال کی دنیا کے بادشاہ کیسے بنے؟
اس دوران ان کا امریکی ویزا بھی ختم ہوگیا اور 2024 میں انہیں آئیوری کوسٹ واپس جانا پڑا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کا فٹبال کا خواب ختم ہونے والا ہے۔ لیکن اسی موقع پر ان کی زندگی میں ایک اہم شخصیت دوبارہ سامنے آئی۔

’نیا میسی‘ اور اسپین کا دروازہ
امریکی کاروباری شخصیت جیف لوہنو کی اسپورٹس کمپنی 'بلیو کرو اسپورٹس' پہلے ہی افریقی فٹبال ٹیلنٹ پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ لوہنو نے دیومانڈے کی ویڈیوز اسپین کے کلب لیگانیز کے کوچ کو دکھائیں اور انہیں ’نیا میسی‘ قرار دیا۔
نومبر 2024 میں دیومانڈے نے لیگانیز کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔ ابتدا میں وہ کلب کی اکیڈمی اور بی ٹیم کے ساتھ کھیلتے رہے، لیکن ان کی صلاحیت زیادہ دیر تک چھپی نہ رہ سکی۔
ایک ٹریننگ سیشن میں انہوں نے لیگانیز کی پہلی ٹیم کے کھلاڑیوں کے خلاف ایسی کارکردگی دکھائی کہ کوچ کو انہیں روکنا پڑا۔ چند ہی دن بعد وہ لا لیگا میں ریال میڈرڈ کے خلاف میدان میں اترے۔
برنابیو میں پہلا بڑا امتحان
ریال میڈرڈ کے خلاف میچ میں دیومانڈے کو 85ویں منٹ میں میدان میں اتارا گیا۔ اس وقت لیگانیز 3-2 سے پیچھے تھا۔
نوجوان کھلاڑی نے چند ہی منٹ میں اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھادی۔ انہوں نے ریال میڈرڈ کے کھلاڑیوں کے خلاف ڈرِبلنگ کی، دباؤ میں گیند اپنے قبضے میں رکھی اور یہ ثابت کردیا کہ وہ بڑے اسٹیج سے خوفزدہ نہیں۔
میچ کے بعد انہوں نے کیلین ایمباپے سے شرٹ بھی مانگی، جو انہیں مل گئی۔ لیگانیز کے لیے انہوں نے سیزن کے آخری 10 میچ کھیلے اور اپنی غیر معمولی ڈرِبلنگ اور رفتار سے سب کو متاثر کیا۔

بہن کی موت
لیکن اسی دوران ان کی زندگی کو ایک ناقابلِ تلافی صدمہ بھی پہنچا۔ بہن کی موت نے توڑ دیا، پھر یہی درد طاقت بن گیا۔ پیشہ ورانہ فٹبال میں قدم رکھنے کے کچھ ہی عرصے بعد دیومانڈے کو خبر ملی کہ ان کی چھوٹی بہن روکسانے انتقال کرگئی ہیں۔
یہ صدمہ اس نوجوان کے لیے انتہائی گہرا تھا جو پہلے ہی اپنے خاندان سے ہزاروں میل دور رہ کر اپنا کیریئر بنانے کی کوشش کررہا تھا۔
بعد ازاں اپنی بہن کے نام ایک جذباتی خط میں دیومانڈے نے لکھا کہ میدان میں ان کی ہر کوشش اب اپنی بہن کے لیے ہے اور وہ ہر گول کے ذریعے دنیا کو اس کا نام یاد دلانا چاہتے ہیں۔ روکسانے کی موت ان کے لیے ایک اور محرک بن گئی۔
لیگانیز سے جرمنی تک
دیومانڈے کی صلاحیت اب بڑے کلبوں کی نظروں میں آچکی تھی۔ جرمن کلب آر بی لائپزگ نے انہیں سائن کرلیا اور صرف ایک سیزن میں نوجوان آئیوری کوسٹین نے جرمن فٹبال میں تہلکہ مچا دیا۔
انہوں نے 12 گول اور 8 اسسٹس کیے اور بنڈس لیگا میں 'روکی آف دی سیزن' کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی سب سے بڑی طاقت صرف گول یا اسسٹس نہیں تھی۔ ان کی رفتار، ڈرِبلنگ، گیند کو آگے لے جانے کی صلاحیت اور مخالف دفاع کو توڑنے کا انداز انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔
لازمی پڑھیں: فیفا ورلڈکپ کا نیا فارمیٹ: کامیاب رہا یا ناکام؟
وہ دونوں پاؤں سے کھیل سکتے ہیں، تنگ جگہوں میں مخالفین کو چھکا سکتے ہیں اور لمبی دوڑ میں بھی گیند کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق بنڈس لیگا کے گزشتہ سیزن میں ان کی اوسط 7.7 ڈرِبلنگ کوششیں فی 90 منٹ تھیں، جو کم از کم 900 منٹ کھیلنے والے تمام کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ تھیں۔
نئی منزل ریال میڈرڈ
جرمنی میں صرف ایک شاندار سیزن اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیت منوانے کے بعد دنیا کے بڑے کلب دیومانڈے کے لیے میدان میں آگئے۔ لیکن ریال میڈرڈ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ہسپانوی کلب نے 19 سالہ کھلاڑی کے ساتھ سات سالہ معاہدہ کیا، جس کی مبینہ مالیت 14 کروڑ 43 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ رقم انہیں تاریخ کا مہنگا ترین افریقی فٹبالر بناتی ہے۔
اب وہ ایسے کلب میں پہنچ چکے ہیں جہاں دنیا کے بڑے ترین ستارے کھیلتے ہیں اور جہاں شائقین اور میڈیا کی توقعات بھی غیر معمولی ہوتی ہیں۔

کیا دیومانڈے ریال میڈرڈ میں کامیاب ہوں گے؟
ریال میڈرڈ تک پہنچنا شاید ان کے سفر کا سب سے مشکل مرحلہ ابھی شروع ہوا ہے۔ 19 سالہ دیومانڈے کو اب دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا، مسلسل میڈیا کی توجہ برداشت کرنا ہوگی اور ایک ایسے کلب میں اپنی جگہ بنانی ہوگی جہاں معمولی غلطی بھی شدید تنقید کا سبب بن سکتی ہے۔
لیکن جو شخص 15 سال کی عمر میں اپنے خاندان سے دور امریکا گیا، جسے کئی یورپی کلبوں نے مسترد کیا، جس نے بہن کی موت کا صدمہ برداشت کیا اور پھر اسپین اور جرمنی میں اپنی صلاحیت ثابت کی، اس کے لیے یہ چیلنج شاید ایک اور منزل ہی ہو۔
مزید پڑھیں: اسٹیڈیم سے پناہ گاہ تک: غزہ کے فٹبالرز کی زندگی کیسے بدلی؟
مٹی کے میدانوں میں سفید سینڈل پہن کر فٹبال کھیلنے والے آبیدجان کے اس بچے کا خواب اب سانتیاگو برنابیو تک پہنچ چکا ہے۔
اور اگر یان دیومانڈے اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو ممکن ہے کہ 14 کروڑ 43 لاکھ ڈالر کا یہ نوجوان صرف افریقہ کا مہنگا ترین فٹبالر نہیں بلکہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والا اگلا بڑا نام بن جائے۔







