ایجبسٹن میں جاری ٹیسٹ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کے بعد قومی ٹیم کی پوری بیٹنگ لائن انگلش باؤلرز کے سامنے بے بس نظر آئی اور 133 رنز ہی بنا سکی۔
پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز ٹیم میں کم بیک کرنے والے اوپنر صائم ایوب اور اذان اویس نے کیا، تاہم صائم ایوب 10 گیندوں پر بغیر کوئی رن بنائے اولی رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
پاکستان کی پہلی وکٹ 8 رنز کے مجموعی اسکور پر گری۔ یہ وکٹ حاصل کرتے ہی اولی رابنسن نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں بھی مکمل کرلیں۔
دوسرے اوپنر اذان اویس بھی 20 گیندوں پر 9 رنز بنا کر 14 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے، جس کے بعد پاکستان کی بیٹنگ لائن تیزی سے بکھرتی چلی گئی۔
عبداللہ شفیق 16 گیندوں پر 3، شان مسعود 7 گیندوں پر 5 اور بابر اعظم 18 گیندوں پر 7 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد غازی غوری 4 اور محمد عمران 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
سعود شکیل انگلش باؤلرز کا ذمہ داری سے سامنا کرنے والے واحد بیٹر رہے۔ انہوں نے مسلسل وکٹیں گرنے کے باوجود محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
سعود شکیل نے 47 گیندوں پر 43 رنز بنائے، جس میں 7 چوکے شامل تھے، جبکہ ڈیبیو کرنے والے رضاء اللہ نے 11 رنز بنائے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ کو تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پہلے ہی 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے میچ میں 194 رنز سے شکست دی تھی۔
بیٹنگ لائن کی مسلسل ناکامی کے بعد پاکستان نے آخری ٹیسٹ کے لیے پلیئنگ الیون میں چار تبدیلیاں کیں۔ اوپنر صائم ایوب، وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری، آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا اور فاسٹ باؤلر رضاء اللہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
23 سالہ وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری کا تعلق کراچی سے ہے۔ 29 سالہ آل راؤنڈر محمد عمران رندھاوا بھی ٹیسٹ ڈیبیو کر رہے ہیں۔ وہ 58 فرسٹ کلاس میچز کا تجربہ رکھتے ہیں اور بیٹنگ کے ساتھ میڈیم پیس باؤلنگ کرتے ہوئے 110 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔
قومی ٹیم کے پلیئنگ الیون اسکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، اذان اویس، صائم ایوب، عبداللہ رفیق، شان مسعود، سعود شکیل، محمد غازی غوری، محمد عمران، رضا اللہ، محمد علی اور محمد عباس شامل ہیں۔
میچ سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم ایک غیر معمولی صورتحال کے باعث بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے کھلاڑیوں اور دیگر آفیشلز کے موبائل فون اپنے پاس جمع کرلیے ہیں، جو میچ کے اختتام تک بورڈ کی تحویل میں رہیں گے۔
اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضوابط کے تحت ڈریسنگ روم اور محدود علاقوں میں مواصلاتی آلات کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، تاہم پوری سیریز کے دوران موبائل فون تحویل میں لینے کے اقدام نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے اس فیصلے کی تاحال کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی، جب کہ ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد شائقینِ کرکٹ اس معاملے پر بورڈ کے مؤقف کے منتظر ہیں۔







