یہ تاریخی اقدام دونوں برادر ممالک کے درمیان مسافروں کے لیے سفر کو آسان اور کم خرچ بنا دے گا، کیونکہ گزشتہ دہائی سے لوگ دبئی، دوحہ جیسے خلیجی ہوائی اڈوں کے ذریعے ہی سفر کرتے تھے۔ براہِ راست پروازوں کی بحالی سے سماجی، تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کے نئے دروازے کھلیں گے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری اس وقت سے دیکھی جا رہی ہے جب 2024 میں بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلیاں آئیں اور دونوں ممالک نے سفارتی سطح پر قریبی روابط استوار کیے۔ نومبر 2024 میں کراچی سے چٹاگانگ کے لیے مال بردار جہازوں کی آمدورفت بھی بحال ہوئی تھی، جس کے بعد تجارت اور ثقافتی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جماعت اسلامی رہنما رضا الکریم پر حملہ، اینٹیں مار کر قتل کردیا گیا

اب یہ براہِ راست فضائی خدمات ہفتے میں دو بار چلیں گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور سیاحتی سفر میں خاطر خواہ آسانی آئے گی۔ مسافروں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ بار اپنے خاندان اور کاروباری مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے ملک جا سکیں گے، جبکہ اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔