سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں یوكرینی صدرنے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ 15 رکنی سلامتی کونسل ایک بار پھر اس عالمی خطرے کے سامنے مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستوں کو بند کرے یا درجنوں ممالک کی معیشت کو خطرے میں ڈالے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کو عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم گزرگاہ کو ہر قسم کی بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رہنا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور سپلائی چین متاثر نہ ہو۔

زیلنسکی نے یوکرین کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے بحیرہ اسود میں بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران یوکرین کو بھی اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم انہوں نے فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا۔

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر قیمتوں، مارکیٹ کے استحکام اور معاشی صورتحال پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔

یوکرینی صدر نے زور دیا کہ ایسے سنگین عالمی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے ایک فعال اور مؤثر سلامتی کونسل ناگزیر ہے، تاکہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔