لیکن سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کے اس دورے کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا یہ شام کی عالمی تنہائی کے خاتمے کی علامت ہے، یا اقوام متحدہ نئی حکومت کے ساتھ ایک نئے مرحلے کا آغاز کرنا چاہتی ہے؟
17 برس بعد یہ دورہ کیوں اہم ہے؟
یہ کسی بھی حاضر سروس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا 2009 کے بعد پہلا دورۂ شام ہے۔ اس کے بعد 2011 میں خانہ جنگی شروع ہوئی، جس میں لاکھوں افراد ہلاک، کروڑوں بے گھر اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔
اب 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کے بعد عالمی سطح پر شام سے دوبارہ روابط بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، اور گوتریس کا دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
دورے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
1۔ شام کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا
گوتریس نے دمشق پہنچنے کے بعد واضح کیا کہ اتنے طویل اور تباہ کن تنازع کے بعد کوئی بھی ملک تنہا اپنی تعمیرِ نو نہیں کر سکتا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ شام کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، معیشت کی بحالی اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے تعاون بڑھایا جائے۔
2۔ نئی شامی حکومت کی عالمی سطح پر حوصلہ افزائی
گوتریس شام کے صدر احمد الشرع، وزیر خارجہ اسعد الشیبانی، دیگر حکومتی عہدیداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس دورے کا مقصد ایسی زیادہ مستحکم، جامع اور خوشحال شام کے قیام میں مدد دینا ہے، جہاں تمام طبقات کو سیاسی عمل میں نمائندگی حاصل ہو۔
3۔ انسانی بحران کا جائزہ
اقوام متحدہ کے مطابق شام کی تقریباً 90 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے، جب کہ لاکھوں افراد اب بھی بے گھر ہیں اور انہیں خوراک، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے۔
گوتریس نئی حکومت کے ساتھ امدادی سرگرمیوں، بے گھر افراد کی واپسی اور پناہ گزین کیمپوں کو مرحلہ وار بند کرنے کے منصوبے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
4۔ اسرائیل۔شام سرحد کی صورتحال کا جائزہ
دورے کے دوران گوتریس مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج (یواین ڈی او ایف) کا بھی دورہ کریں گے۔
اس کا مقصد شام اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات، سرحدی کشیدگی اور اقوام متحدہ کے امن مشن کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔
5۔ شام کو دوبارہ عالمی نظام میں شامل کرنا
حالیہ مہینوں میں کئی مغربی ممالک شام پر عائد بعض پابندیاں نرم کر چکے ہیں، جبکہ متعدد ممالک نئی حکومت کے ساتھ سفارتی روابط بحال کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گوتریس کا دورہ بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی برادری شام کو مکمل تنہائی میں رکھنے کے بجائے نئی قیادت کے ساتھ روابط بڑھانے کی خواہاں ہے، تاہم اس کے ساتھ انسانی حقوق، احتساب اور جامع سیاسی عمل پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
UN Secretary-General Antonio Guterres arrived in Damascus for his first visit to Syria since before the country’s civil war, in a trip aimed at reaffirming support for Syria’s transition more than a year and a half after the overthrow of Bashar al-Assad. https://t.co/pHaSFXP7wl pic.twitter.com/fqirl1lNiI
— Arab News (@arabnews) July 25, 2026
اس دورے سے شام کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
اگرچہ اقوام متحدہ براہِ راست شام کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈز فراہم نہیں کرتی، لیکن سیکریٹری جنرل کا یہ دورہ عالمی برادری کو شام میں سرمایہ کاری، انسانی امداد اور بحالی کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ دورہ شام کی نئی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر مزید قبولیت دلانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ سیاسی اصلاحات، اقلیتوں کے تحفظ اور قومی مفاہمت کے عمل میں پیش رفت ہو۔
انتونیو گوتریس کا 17 برس بعد شام کا دورہ محض علامتی سفارت کاری نہیں بلکہ جنگ کے بعد شام کے مستقبل سے متعلق عالمی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس دورے کا محور تعمیرِ نو، انسانی بحران سے نمٹنا، نئی حکومت کے ساتھ تعاون، اسرائیل کے ساتھ سرحدی صورتحال کا جائزہ اور شام کو عالمی برادری کے ساتھ دوبارہ جوڑنے کی کوششیں ہیں۔
واضح رہے کہ اس کے طویل مدتی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی شامی قیادت سیاسی استحکام، شمولیت اور اصلاحات کے حوالے سے کس حد تک پیش رفت کرتی ہے۔







