کہانی شروع ہوتی ہے 1979 کے ایرانی انقلاب سے، جب ایران اچانک عالمی سطح پر تنہا ہو گیا۔ امریکی ماہرین چلے گئے، جدید جنگی طیارے کھڑے کھڑے ناکارہ ہو گئے اور پھر 1980 میں ایران عراق جنگ نے اس کمزور ہوتی فوج کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا۔

اسی مشکل وقت میں ایران نے ایک غیر روایتی راستہ اپنایا۔ اصفہان یونیورسٹی کی ایک سادہ سی ورکشاپ میں چند طالب علموں اور انجینیئرز نے کم وسائل کے ساتھ ڈرون بنانے کا آغاز کیا۔

ابتدا میں یہ ڈرونز کھلونوں جیسے تھے، مگر 1983 میں جب انہوں نے دشمن کی تنصیبات کی تصاویر فراہم کیں، تو یہ واضح ہو گیا کہ ایک نئی جنگی سوچ جنم لے چکی ہے۔

ایران نے ایک بنیادی اصول اپنایا کہ اگر معیار  میں مقابلہ مشکل ہے تو مقدار اور لاگت میں برتری حاصل کرو۔ یہی حکمتِ عملی بعد میں شاہد-136 جیسے ڈرونز کی شکل میں سامنے آئی، جن کی قیمت انتہائی کم مگر اثر بہت زیادہ ہے۔

ایک مہنگا میزائل سسٹم جس کی ہر فائرنگ لاکھوں ڈالر کی ہو، اس کے مقابلے میں درجنوں یا سینکڑوں سستے ڈرونز ایک ساتھ بھیج دیے جائیں۔ دفاعی نظام یا تو تھک جاتا ہے یا اپنے ہی اخراجات میں الجھ جاتا ہے۔

اس حکمتِ عملی کی بڑی مثال سعودی آرامکو حملہ ہے، جہاں نسبتاً سستے ڈرونز اور میزائلز نے اربوں ڈالر کے تیل کے انفراسٹرکچر کو متاثر کیا۔ اسی طرح 2022 میں روس یوکرین جنگ کے دوران بھی یہی ڈرونز جدید دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے۔

اصل تبدیلی یہ ہے کہ اب جنگ صرف طاقت سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ  سمارٹ لاگت  اور  تعداد  سے جیتی جا رہی ہے۔ مہنگی ٹیکنالوجی اب بھی اہم ہے، مگر اگر اس کے مقابلے میں سستی، بڑی تعداد میں آنے والی ٹیکنالوجی ہو، تو توازن بگڑ سکتا ہے۔

لیکن ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈرونز نے جنگ کا توازن ضرور بدلا ہے، مگر مکمل طور پر روایتی عسکری برتری ختم نہیں کی۔ جدید دفاعی نظام اب بھی اپڈیٹ ہو رہے ہیں،لیزر ہتھیار، الیکٹرانک وارفیئر اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجیز تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔