رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناکام اسٹریٹجک خودمختاری کے باعث انڈیا کو امریکا، چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 2025 میں پاک انڈیا فوجی کشیدگی، امریکا سے تجارتی محاذ آرائی، ایک مہلک طیارہ حادثہ، روپے کی قدر میں کمی اور معاشی عدم استحکام نے انڈیا کی مشکلات میں اضافہ کیا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا اور انڈیا کے درمیان تجارتی معاہدہ 2025 میں کئی بار مؤخر ہوا، امریکی ٹیرف کے باعث انڈیا پر اقتصادی دباؤ بڑھا، جب کہ محدود جی ایس ٹی اصلاحات نے معاشی ترقی کی رفتار سست رکھی۔ اسی دوران انڈین روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ کا شکار رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاک انڈیا کشیدگی کا ایک بڑا نتیجہ واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینا انڈیا کے لیے سفارتی ناکامی ثابت ہوا، جب کہ ٹرمپ کے پاکستانی عسکری قیادت سے بڑھتے روابط کو بھی انڈین سفارتی کمزوری قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں انڈیا کی محدود معاشی اور سفارتی گنجائش اس کی کمزور عالمی پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے۔ روپے کی گراوٹ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں ناکامی انڈیا کے ممکنہ معاشی بحران کی علامت ہے۔

ماہرین کے مطابق انڈیا نے 2025 میں مسائل حل کرنے کے بجائے زیادہ تر انہیں برداشت کیا، جب کہ 2026 اندرونی کمزوریوں، علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤ کے باعث انڈیا کے لیے مزید چیلنجز لے کر آ سکتا ہے۔