یہ واقعہ 9 اپریل کو پیش آیا، جسے امریکی حکام نے کلاس اے حادثہ قرار دیا ہے۔ اس درجہ بندی کے تحت ایسے حادثات شامل ہوتے ہیں جن میں 20 لاکھ ڈالر سے زائد نقصان یا طیارے کا مکمل ضیاع ہو۔
امریکی ادارے یونائیٹڈ اسٹیٹس نیول سیفٹی کمانڈ کی رپورٹ کے مطابق ڈرون ایک معمول کی نگرانی پرواز کے دوران آبنائے ہرمز کے اوپر موجود تھا جب اس نے ہنگامی سگنلز دینا شروع کیے، جس کے بعد اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
فلائٹ ڈیٹا کے مطابق وی وی پی ای 804 کال سائن کے تحت پرواز کرنے والا یہ ڈرون 50 ہزار فٹ کی بلندی سے اچانک 10 ہزار فٹ سے نیچے آ گیا اور پھر مکمل طور پر غائب ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے اسے مار گرایا ہے، تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ڈرون کسی حملے کا نہیں بلکہ حادثے کا شکار ہوا۔
یہ ڈرون امریکی کمپنی نارتھروپ گرومین کا تیار کردہ ایک جدید ہائی آلٹیٹیوڈ، لانگ اینڈورینس طیارہ ہے، جو 50 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر 24 گھنٹے سے زیادہ پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً 7,400 ناٹیکل میل تک نگرانی کر سکتا ہے۔
ایم کیو-4سی ٹرائٹن میں جدید سینسرز نصب ہوتے ہیں جو وسیع علاقے کی نگرانی اور فوری خطرات کی نشاندہی ممکن بناتے ہیں اور یہ حقیقی وقت میں ڈیٹا دیگر فوجی یونٹس کو منتقل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: چینی سیٹلائٹس کی مدد سے ایران نے امریکی اڈوں پر حملے کیے، فنانشل ٹائمز
دوسری جانب چینی خبر رساں ادارے سنہوا نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق یکم اپریل سے اب تک ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا اپنے 24 ایم کیو-4سی ٹرائٹن ڈرونز بھی کھو چکا ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 72 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
ایم کیو-4سی ٹرائٹن ڈرون کو جنرل ایٹمکس ایروناٹیکل سسٹمز تیار کرتی ہے، یہ نہ صرف نگرانی بلکہ درست حملے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔







