ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ غازی آباد کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں پیش آیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 12 سالہ پاکھی، 14 سالہ پراچی اور 16 سالہ ویشیکا ایک مشہور آن لائن کورین گیم کی اس حد تک عادی ہو چکی تھیں کہ انہوں نے اپنی دنیا ہی بدل لی تھی۔ گزشتہ رات جب والدین نے انہیں گیم کھیلنے سے سختی سے روکا، تو تینوں بہنوں نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی بالکونی سے موت کی چھلانگ لگا دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکیاں گزشتہ دو سالوں سے اسکول بھی نہیں جا رہی تھیں اور انہوں نے خود کو کمرے تک محدود کر لیا تھا۔
تینوں بہنوں نے اپنے اصل ناموں کے بجائے کورین نام رکھ لیے تھے۔
وہ چوبیس گھنٹے موبائل فون پر ورچوئل دنیا میں مگن رہتی تھیں۔
گھر والوں سے کٹ کر رہنا اور صرف گیمنگ کے بارے میں بات کرنا ان کا معمول بن چکا تھا۔
آخری خط: پاپا سوری، کوریا ہماری زندگی ہے
پولیس کو جائے وقوعہ سے لڑکیوں کی ایک ڈائری ملی ہے، جو کسی وصیت نامے سے کم نہیں۔ ڈائری کے آخری صفحات پر لکھا گیا نوٹ پڑھ کر ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ لڑکیوں نے تحریر کیا:
مزید پڑھیں: لاہور: جنرل اسپتال کی چوتھی منزل سے لڑکی نے چھلانگ لگا دی
"اس ڈائری میں جو کچھ لکھا ہے وہ سچ ہے۔ پاپا ہمیں معاف کر دیں، لیکن کوریا ہی ہماری زندگی اور ہماری پہلی محبت ہے۔ ہم اسے کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے۔"
اپنے تینوں لخت جگر کھونے والے والد کی حالت غیر ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "کاش مجھے اس خونی کھیل کی حقیقت کا پہلے علم ہوتا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ موبائل فون میرے بچوں کی جان لے لے گا۔ میں تمام والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کی موبائل سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ کسی اور کا گھر یوں برباد نہ ہو۔"
اس واقعے نے انڈیا بھر میں آن لائن گیمنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بچوں پر اس کے منفی اثرات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ایڈکشن (موبائل کی لت) بچوں کو حقیقت سے دور کر کے ایک خیالی دنیا میں لے جاتی ہے، جہاں وہ تشدد اور خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کو بھی معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔
غازی آباد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ڈائری کو قبضے میں لے لیا ہے اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا کوئی مخصوص آن لائن ٹاسک اس خودکشی کی وجہ تو نہیں بنا۔







