اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ خطے میں دیرینہ تنازع کم کرنے کے لیے اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں اور فریقین کے درمیان رابطوں میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

مزید یہ کہ اس اعلان سے ایک روز قبل ہی واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلی براہِ راست سفارتی ملاقات ہوئی تھی، جس میں لبنان نے اسرائیلی حملوں کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ سفارتی راستے بھی کھلے رکھنا چاہتی ہے تاکہ پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔

لبنانی حکومت کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست فریق نہیں، تاہم وہ فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے انخلا کا مطالبہ کرتی ہے، خطے میں مسلسل فوجی کارروائیاں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ 2 مارچ کو حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔  اس کے بعد سے اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں لبنان میں بڑے پیمانے پر نقصان رپورٹ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: لبنان میں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ نہایت ضروری، جنگ بندی مذاکراتی عمل کا حصہ ہے: پاکستان

مقامی حکام کے مطابق 2 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جب کہ تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمینی کارروائیاں بھی جاری ہیں جن کا مقصد ایک سیکیورٹی بفر زون قائم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود زمینی صورتحال میں کوئی واضح کمی نہیں دیکھی جا رہی۔ بدھ کے روز جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کے دوران 4 طبی کارکن جان کی بازی ہار گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے اور کئی طبی مراکز کو بھی نقصان پہنچا۔