غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے حماس کے متعدد اہم رہنماؤں اور کمانڈرز کو ہدف بنایا ہے، جبکہ تنظیم کے عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنے اہداف کے حصول کے قریب پہنچ چکی ہے اور 7 اکتوبر کے حملے کے ذمہ دار عناصر کو انجام تک پہنچانے کے لیے آپریشن پوری شدت سے جاری رہے گا، غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر اسرائیلی فورسز کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور جب تک تمام خطرات ختم نہیں ہو جاتے، فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، اسرائیلی فوج زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے حماس کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب غزہ میں انسانی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
غزہ حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری کے باعث علاقے کا 90 فیصد سے زائد انفرااسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور بیشتر علاقے رہائش کے قابل نہیں رہے۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو کر عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
مزیدپڑھیں: چینی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے، صدر ٹرمپ
عالمی امدادی اداروں نے بھی غزہ میں خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی پابندیوں اور سرحدی ناکہ بندی کے باعث امدادی سامان کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے انسانی المیہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
دریں اثنا بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک اور عالمی تنظیمیں غزہ میں فوری انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔







