اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم اس حملے نے عالمی بحری راستوں اور سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا آئندہ چند ہفتوں میں اپنی فوجی کارروائیاں مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم حوثی گروپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کارروائیاں بند ہونے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ادھر مسعود پزشکیان نے شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جب کہ پاکستان اتوار کو ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔
خیال رہے كہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگ اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور عالمی معیشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ہفتے کے روز اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے تہران میں ایرانی حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جب کہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب میں ایک ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جس میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جن میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
The Yemeni Armed Forces, with God’s help and reliance upon Him, have carried out their first military operation, Yemen s Iran-aligned Houthi military spokesman said, confirming that they launched missiles at Israel https://t.co/fgQDXMTIcA pic.twitter.com/WSSfEWcKiJ
— Reuters (@Reuters) March 28, 2026
حوثیوں کے اس حملے کے بعد عالمی بحری تجارت کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پہلے ہی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر حوثی اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہو گئے تو باب المندب بھی ایک نیا محاذ بن سکتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، ج بکہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس سے اس کے ریڈار نظام کو نقصان پہنچا۔
معاشی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی گئی جب کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جنگ کے آغاز سے اب تک 50 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایرانی توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کو جواب دینے کے لیے مزید 10 دن کی مہلت بھی دے دی ہے۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے معاشی یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔
خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، مصر اور ترکی پس پردہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم تاحال کسی بڑی پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔







