بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 110 امریکی ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی نمایاں اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکا ہے، یہ اضافہ نہ صرف مسلسل طلب بلکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا بھی نتیجہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال، عالمی توانائی سپلائی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ یہ گزرگاہ دنیا میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی کو فوری متاثر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی حالیہ تجاویز پر عدم اطمینان کے اظہار کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز میں معمولی مگر مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں بھی تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ گزشتہ چند سیشنز کے دوران ہونے والا مجموعی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ اس وقت دباؤ میں ہے اور سپلائی سے متعلق خدشات غالب ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکہ نے ایران کو 5.5 کلوگرام افزودہ یورینیم کیوں دیا؟ ’ایٹمز فار پیس’ پروگرام کی اصل کہانی
ادھر ایشیائی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جہاں انڈین کموڈٹی ایکسچینج پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور نرخ بڑھ کر 9 ہزار روپے فی بیرل سے تجاوز کر گئے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال بہتر ہو جاتی ہے اور تیل کی ترسیل معمول پر آ جاتی ہے تو قیمتوں میں فوری کمی آ سکتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں مارکیٹ کا مجموعی رجحان تیزی کی جانب ہے اور قلیل مدت میں قیمتوں میں استحکام کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
یاد رہے کہ کا کہ عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں اضافہ اور جغرافیائی سیاسی عوامل مل کر قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی پیش رفت پر منڈی کا ردعمل نہایت اہم ہوگا۔







