صدر ٹرمپ نے دستخط کرنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اظہارِ تشکر کیا۔ اس موقع پر آذربائیجان، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، قازقستان، سعودی عرب، ترکیہ، پیراگوئے اور قطر سمیت متعدد ممالک کے رہنماؤں نے بھی چارٹر پر دستخط کیے۔

بورڈ آف پیس کا آغاز بظاہر غزہ کی تعمیر نو کے لیے کیا گیا ہے، تاہم چارٹر کے مطابق اس کا دائرہ کار صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر تنازعات کے حل، امن کے قیام اور استحکام کو یقینی بنانے تک پھیلا ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے تقریب میں تقریباً 20 منٹ کا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس غزہ میں بہت کامیاب ہوگا اور اسے غیر عسکری بنایا جائے گا اور خوبصورتی سے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھی، ریکارڈ سطح کی انسانی امداد فراہم کی اور اب فلسطینی بھوکے نہیں ہیں، جب کہ ناقدین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی ہیں۔

ٹرمپ نے دنیا کو زیادہ محفوظ، خوشحال اور پُرامن بتایا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے کئی عالمی تنازعات کو کامیابی سے حل کیا۔ انہوں نے لبنان اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اقوامِ متحدہ پر طنزیہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں صلاحیت موجود ہے لیکن وہ خود کسی بھی تنازعے پر اقوامِ متحدہ سے بات نہیں کرتے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ امن کے حصول کے لیے کسی سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کا وژن ناممکن کو ممکن بنانے کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کیا، کونسے ممالک شمولیت اختیار کریں گے؟

ٹرمپ نے چارٹر پر دستخط کرنے کے بعد دستاویزات کیمرے کے سامنے بلند کیں، جس کے بعد دیگر عالمی رہنماؤں نے جوڑوں کی شکل میں آگے آ کر دستخط کیے۔ اس منصوبے کی حمایت میں 59 ممالک نے حصہ لیا۔

غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر حماس نے اپنے وعدے پورے نہ کیے اور ہتھیار نہ چھوڑے تو یہ ان کا خاتمہ ہوگا۔ ہر کوئی بورڈ آف پیس کا حصہ بننا چاہتا ہے، امریکا اقوامِ متحدہ سمیت دیگر اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔