آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں نیشنل پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے فاطح بیرول نے کہا کہ امریکا-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا توانائی بحران بیک وقت دو تیل بحرانوں اور ایک گیس بحران کے برابر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش اور توانائی کے تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں یومیہ تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے، جو 1970 کی دہائی کے بحرانوں کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

فاطح بیرول کے مطابق مائع قدرتی گیس کی فراہمی میں بھی تقریباً 140 ارب مکعب میٹر کی کمی آئی ہے، جب کہ روس کی جانب سے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد یہ کمی 75 ارب مکعب میٹر تھی۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس تنازع کے دوران کم از کم 9 ممالک میں 40 توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے عالمی معیشت کو بڑا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔


آئی ای اے سربراہ نے کہا کہ اس بحران کی شدت کو پہلے پوری طرح سمجھا نہیں گیا، اسی لیے انہوں نے گزشتہ ہفتے پہلی بار اس معاملے پر کھل کر بات کی۔

ادارے کی جانب سے اس سے قبل ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے، جب کہ توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں گھر سے کام کو فروغ دینا، کار پولنگ اور موٹرویز پر رفتار کی حد کم کرنا شامل ہیں۔

فاطح بیرول نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید اسٹریٹجک تیل ذخائر جاری کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس بحران کا سب سے اہم حل آبنائے ہرمز کو کھلوانا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی گزرتی ہے۔

واضح رہے کہ جنگ کے آغاز (28 فروری) کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے، بصورت دیگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ نہ صرف آبنائے کو مکمل طور پر بند کر دے گا بلکہ خطے میں توانائی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔