ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی یومِ آبادی کے موقع پر اپنے خصوصی   پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے شرحِ   پیدائش میں اضافے کو قومی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل اور خاندانوں کو زیادہ بچوں کی پیدائش کی جانب راغب کرنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض حلقے آبادی میں اضافے کے مسئلے کو ماضی کی پالیسیوں کی غلطیوں کا ازالہ سمجھتے ہیں، تاہم حقیقت میں یہ معاملہ ایران کے مستقبل، قومی سلامتی اور عالمی کردار سے جڑا ایک اہم اسٹریٹجک معاملہ ہے۔

سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر ایران درست اور جامع آبادی پالیسی پر عمل کرتا ہے تو آنے والے برسوں میں ایرانی قوم خطے اور دنیا میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکے گی،مضبوط آبادی نہ صرف معاشی ترقی بلکہ دفاعی، سائنسی اور تہذیبی میدان میں بھی ملک کی طاقت میں اضافہ کرتی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایک نئی اسلامی ایرانی تہذیب کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی نوجوان آبادی میں اضافہ ہو تاکہ مستقبل میں قومی طاقت کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے، دنیا میں وہی قومیں طویل عرصے تک طاقتور رہتی ہیں جن کی آبادی متحرک، جوان اور فعال ہوتی ہے۔

انہوں نے آبادی کے شعبے میں کام کرنے والے سماجی کارکنوں، ماہرین اور اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام میں بچوں کی پیدائش کے مثبت رجحان کو فروغ دینا ایک قومی خدمت ہے، اگر معاشرے میں خاندانی نظام مضبوط ہوگا تو اس کے مثبت اثرات مستقبل کی نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے خطاب میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ان کے والد مرحوم آیت اللہ سید علی خامنہ ای آبادی کے مسئلے کو اسلامی جمہوری نظام کے اہم ترین اسٹریٹجک معاملات میں شمار کرتے تھے اور مختلف مواقع پر اس موضوع پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو مستقبل کے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور بڑی نوجوان آبادی کی ضرورت ہے۔ آبادی میں کمی یا شرحِ پیدائش میں مسلسل گراوٹ ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

یاد رہے کہ  ایران کو گزشتہ چند برسوں میں کم ہوتی شرحِ پیدائش، بڑھتی عمر رسیدہ آبادی اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومت مسلسل عوام کو زیادہ بچوں کی پیدائش کی ترغیب دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت اس سے قبل بھی شادیوں میں اضافے، خاندانوں کو مالی سہولتیں دینے اور بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف منصوبے متعارف کراچکی ہے تاکہ ملک میں آبادی کے توازن کو برقرار رکھا جاسکے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ آبادی میں اضافہ صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایران کی قومی طاقت، خودمختاری اور مستقبل کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔