ان چند الفاظ کے 30 سالہ مصنف ابھیجیت دیپکے آج انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہونے والے ممکنہ طور پر سب سے بڑے عوامی احتجاج کا چہرہ بن چکے ہیں۔

ابھیجیت دیپکے کی 16 مئی کو کی گئی یہ پوسٹ ابتدا میں سپریم کورٹ کے جج سوریا کانت کے اس بیان پر طنزیہ ردعمل تھی، جس میں انہوں نے ایک تقریر کے دوران بے روزگار بھارتی نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی تھی۔ اگرچہ سوریا کانت نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کے ریمارکس کو غلط سمجھا گیا، لیکن اس وقت تک دیپکے کی پوسٹ وائرل ہو چکی تھی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے وجود میں آئی؟

دیپکے کی وائرل پوسٹ کے بعد "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے ایک طنزیہ پلیٹ فارم وجود میں آیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نوجوان بھارتیوں کے لیے ایک مشترکہ آواز بن گیا۔

یہ نوجوان بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور حکومت سے جواب دہی کے مطالبات پر متحد ہونا شروع ہوگئے۔

بعدازاں یہی پلیٹ فارم مئی 2026 کے نیٹ (NEET-UG) امتحان کے پرچہ لیک اسکینڈل کے خلاف ملک گیر احتجاج کی قیادت کرنے لگا۔

وزیر تعلیم کے استعفے تک پہنچنے والی تحریک

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نئی دہلی میں ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں نے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مئی میں ہونے والے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے جبکہ اس معاملے کو متعدد طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا گیا، نوجوانوں نے وزیرتعلیم سے استعفیٰ مانگا اور اس کے لیے ڈاٹ گئے، آخرکار دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، جسے نوجوان مظاہرین کی بڑی کامیابی اور نریندر مودی حکومت کی نمایاں سیاسی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔

ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟

جون کے اوائل تک امریکا کے شہر بوسٹن میں مقیم رہنے والے ابھیجیت دیپکے احتجاج کی قیادت کرنے کے لیے بھارت واپس آئے اور نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری دھرنے کا حصہ بن گئے۔

داڑھی، ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس دیپکے روزانہ سینکڑوں مظاہرین سے خطاب کرتے، انہیں پُرامن رہنے کی تلقین کرتے اور حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کی اپیل کرتے رہے۔

اگرچہ کاکروچ جنتا پارٹی کے کئی منتظمین ہیں، لیکن دیپکے اس تحریک کا سب سے نمایاں چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔

سادہ پس منظر اور دلت شناخت

ابھیجیت دیپکے بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد میں ایک دلت خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مئی میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کے والد انتہائی غریب پس منظر سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے دادا ایک کسان تھے۔ ان کی دلت شناخت نے ان کی سیاسی سوچ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

6 جون کو دہلی پہنچنے پر انہوں نے اپنے ہاتھ میں دلت رہنما اور بھارتی آئین کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی خودنوشت کی ایک کاپی اٹھا رکھی تھی، جسے ان کے نظریاتی وابستگی کی علامت قرار دیا گیا۔

سیاست سے تعلق اور امریکا کا سفر

2020 میں دیپکے عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم میں شامل ہوئے، جہاں انہوں نے میمز، مزاح اور طنز پر مبنی سیاسی پیغام رسانی پر کام کیا۔ بعد میں وہ اس جماعت سے الگ ہوگئے، تاہم عام آدمی پارٹی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے ان کی احتجاجی تحریک کی حمایت کی۔

2023 میں وہ پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے لیے امریکا منتقل ہوگئے اور بوسٹن میں مقیم رہے، لیکن بھارتی سیاست پر مسلسل نظر رکھتے رہے۔

سوشل میڈیا سے سڑکوں تک

دیپکے کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی اپنی اچانک شہرت اور مقبولیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تحریک کو ابتدائی طور پر فروغ دینے والوں میں دہلی کے یوٹیوبر میگھناد ایس بھی شامل تھے، جنہوں نے دیپکے کی پوسٹ کے بعد مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک طنزیہ ویب سائٹ تیار کی، جس میں کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ میگھناد کے مطابق یہ تحریک مکمل طور پر عوامی انداز میں خودبخود ابھری۔

چند ہی دنوں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے کروڑوں فالوورز بن گئے اور یہ نوجوانوں کی سب سے بڑی آن لائن احتجاجی تحریکوں میں شمار ہونے لگی۔

مئی میں بوسٹن سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے کہا تھا کہ ان کی تحریک کا مقصد بھارت کے سیاسی بیانیے کو تبدیل کرنا ہے کیونکہ نوجوان مرکزی سیاسی گفتگو سے تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خود اور اپنے خاندان کو دھمکیاں ملنے کے باوجود انہوں نے بھارت واپس آنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے مطابق وہ اس وقت تک ملک میں رہیں گے جب تک طلبہ کو انصاف نہیں مل جاتا۔

6 جون سے وہ مسلسل احتجاجی مقام پر موجود ہیں، جہاں وہ مظاہرین سے خطاب، میڈیا سے گفتگو اور احتجاجی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جب کہ ان کی قیادت میں یہ تحریک مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہے۔

دوسری جانب آج احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کو اپنی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

سی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات تحریری طور پر تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے، تاہم اتوار کو ملک بھر میں پُرامن مشعل بردار مارچ کیا جائے گا۔

وزیرِ تعلیم کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی نئی دہلی کے جنتر منتر میں قائم احتجاجی کیمپ میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ہم نے یہ کر دکھایا، جس پر شرکا نے زبردست نعرے بازی اور تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔

بعد ازاں انہوں نے تحریک میں شریک تمام افراد، خصوصاً سماجی کارکن سونم وانگچک اور کئی ہفتوں تک بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کا شکریہ ادا کیا، تاہم واضح کیا کہ تحریک ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔