برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہیہ تجویز دراصل ایک بڑی پیش رفت ہے جس کا مقصد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
عہدیدار نے کہا اس فریم ورک کے تحت پیچیدہ جوہری معاملات کو آخری مرحلے میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ابتدائی سطح پر اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
An Iranian proposal so far rejected by President Trump would open shipping in the Strait of Hormuz and end the US blockade of Iran while leaving talks on Iran’s nuclear programme for later, a senior Iranian official confirmed.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) May 2, 2026
🔴LIVE updates: https://t.co/9J79GFcjP9 pic.twitter.com/guj1OzjKL2
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ نئی ٹائم لائن ایک باضابطہ تجویز کی صورت میں ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی گئی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تجویز کو تاحال مسترد کر چکے ہیں۔
تجویز کے مطابق ممکنہ معاہدے کی صورت میں جنگ کا خاتمہ کیا جائے گا اور اس بات کی ضمانت دی جائے گی کہ امریکا اور اسرائیل آئندہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا، جب کہ امریکا ایران پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا۔







