برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہیہ تجویز دراصل ایک بڑی پیش رفت ہے جس کا مقصد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

عہدیدار نے کہا اس فریم ورک کے تحت پیچیدہ جوہری معاملات کو آخری مرحلے میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ابتدائی سطح پر اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ نئی ٹائم لائن ایک باضابطہ تجویز کی صورت میں ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی گئی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تجویز کو تاحال مسترد کر چکے ہیں۔

تجویز کے مطابق ممکنہ معاہدے کی صورت میں جنگ کا خاتمہ کیا جائے گا اور اس بات کی ضمانت دی جائے گی کہ امریکا اور اسرائیل آئندہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا، جب کہ امریکا ایران پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا۔