ٹرمپ نے یہ دھمکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک سخت لہجے میں جاری بیان میں دی، جس میں انہوں نے ایران کو فوری طور پر اس اہم عالمی گزرگاہ کو کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ بصورت دیگر ایران کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے 26 مارچ کو ایران کو 10 دن کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے، جہاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے بحری آمدورفت تقریباً معطل ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور امکان ہے کہ ڈیڈ لائن سے قبل کوئی معاہدہ طے پا جائے۔

ایرانی حکام اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ وہ جنگ ختم کرنے کے خواہاں نہیں اور اگر ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو ردعمل میں مزید شدت لائی جائے گی۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے کی دھمکی دے چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں گرائے گئے ایک امریکی ایف-15 ای لڑاکا طیارہ کے زخمی پائلٹ کو کامیابی سے ریسکیو کر لیا گیا ہے، جسے انہوں نے امریکی افواج کی  بہادری  قرار دیا۔