عالمی تحقیقی ادارے کیپلر جو سیٹلائٹ کے ذریعے دنیا بھر میں تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے کے مطابق بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع یانبو بندرگاہ بلاتعطل خام تیل کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

یہ بندرگاہ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے مشرقی سعودی عرب کے تیل کے میدانوں سے منسلک ہے، جس کے ذریعے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق 28 فروری سے قبل یانبو بندرگاہ سے تیل کی برآمدات اوسطاً 0.8 ملین بیرل یومیہ تھیں، تاہم مارچ کے وسط تک، خصوصاً 15 سے 26 مارچ کے دوران، یہ بڑھ کر تقریباً 3.94 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو اس کے استعمال میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی دوران سعودی عرب کی مجموعی تیل برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی، جو فروری میں 7.1 ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر مارچ میں 4.3 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں۔

رپورٹس کے مطابق مارچ کے اوائل سے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر غیر فعال ہے، جہاں سے معمول کے مطابق روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس خلل کے باعث نہ صرف شپنگ اخراجات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد، یانبو بندرگاہ خلیجی خطے سے خام تیل برآمد کرنے کے دو بڑے مراکز میں سے ایک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔