چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ بیجنگ خطے کی بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے،چین ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ ممالک سے فوری جنگ بندی اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل بھی کی۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس موقع پر امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے متوقع دورۂ چین کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان سفارت کاری دوطرفہ تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دوسری جانب حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی برادری سے مدد طلب کیے جانے کے بعد مختلف ممالک کا ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ ٹرمپ نے چین سمیت متعدد ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو کھلا رکھنے اور اس کی حفاظت کے لیے تعاون کریں۔
امریکی صدر نے امید ظاہر کی تھی کہ چین کے علاوہ فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک بھی اپنے بحری جہاز خطے میں بھیج کر آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں گے۔
تاہم عالمی سطح پر اس اپیل پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ جاپان اور چین نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت اپنے بحری جہاز خطے میں بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے، جبکہ جنوبی کوریا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کا آغاز کردیا
اسی طرح فرانس اور برطانیہ نے بھی فوری طور پر خطے میں اضافی بحری جہاز بھیجنے سے گریز کیا ہے،کئی ممالک مشرق وسطیٰ کی حساس صورتحال کے باعث کسی بھی فوجی یا بحری کارروائی میں براہ راست شامل ہونے سے احتیاط برت رہے ہیں۔
واضع رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، اسی لیے عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔







