چین جو دنیا کا سب سے بڑا توانائی خریدار ہے، اس کے لیے یہاں کوئی رکاوٹ تباہی نہیں، مگر ہلچل ضرور پیدا کر سکتی ہے۔

تقریباً 70 فیصد تیل چین کو بیرون ملک سے آتا ہے اور اس کا نصف حصہ خلیجی ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، کویت اور عراق سے پہنچتا ہے۔ یہ تیل تقریباً سب آبنائے ہرمز کے راستے گزرتا ہے۔

اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو چین کی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ 

بیجنگ کے پاس کئی حربے ہو سکتے ہیں۔ وہ روسی اور قازقستانی پائپ لائنوں سے درآمدات بڑھا سکتا ہے، اپنی وسیع اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروز کا سہارا لے سکتا ہے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے پرسکون ماحول اور بحری راستوں کی آزادی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔

چین کا پیغام فی الحال پر سکون مگر مضبوط نظر آرہا ہے، جیساکہ معاملے کو بڑھنے نہ دینا، بات چیت کرنا اور آبنائے ہرمز کو بند ہونے سے بچانا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ گزرگاہ طویل عرصے کے لیے بند ہو جائے تو معیشت ہل سکتی ہے، صنعتی سپلائی چینز متاثر ہو سکتی ہیں اور عالمی مارکیٹ میں اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علی لاریجانی، ایران میں طاقت کا نیا مرکز، کیا وہ خامنہ ای کے ممکنہ جانشین ہیں؟

چین کی نظریں خلیج پر جمی ہوئی ہیں۔ ہر کشیدگی، ہر میزائل حملہ، ہر بحری رکاوٹ کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پیغام واضح ہے توانائی کی حفاظت ناقابل مذاق ہے اور چین خاموش، پرعزم اور محتاط رہ کر اسے یقینی بنائے گا۔

آخرکار آبنائے ہرمز صرف پانی کا راستہ نہیں بلکہ عالمی استحکام کا پیمانہ بن چکا ہے۔ یہاں کسی بھی رکاوٹ سے نہ صرف چین کی منصوبہ بندی کی آزمائش ہوگی بلکہ دنیا کو یاد دلایا جائے گا کہ تیل اور سیاست کتنی گہرائی سے جڑے ہیں۔