ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی غیر متنازع خودمختاری کے دائرے میں آتی ہے، لہٰذا آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں سمیت تمام بحری جہازوں کو محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں اور ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر کوئی بحری جہاز مقررہ راستوں سے انحراف کرتا ہے یا ایران کے نیویگیشن پروٹوکول کو نظر انداز کرتا ہے تو ایرانی مسلح افواج کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی مسلسل موجودگی کو بھی خطے کے امن، استحکام اور اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی امریکی سینٹکام نہیں بلکہ ایران کی کمان کے تحت ہوتی ہے۔

دوسری جانب جہاز رانی سے متعلق یونینوں اور کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود دو بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو کم از کم آئندہ آٹھ روز تک جنگی آپریشنز  تصور کیا جائے گا۔

متعلقہ اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز 9 جولائی تک جنگی آپریشنز زون قرار رہے گی، جبکہ خطے کی صورتحال کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا۔