کرس رائٹ نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل جلد شروع کر دیا جائے گا، لیکن فی الحال ایسا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری تمام فوجی صلاحیتیں ایران کی جارحانہ صلاحیتوں اور اس کی فوجی صنعت کو تباہ کرنے پر مرکوز ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں ماہ کے اختتام تک بحری جہازوں کو عسکری تحفظ فراہم کرنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ کرس رائٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق کے قریب دو بحری جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا، جب کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئیں۔

ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے لیے انشورنس سہولیات دینے کی پیشکش کر کے مارکیٹ کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اب تک کسی بحری جہاز کو عملی طور پر امریکی عسکری نگرانی فراہم نہیں کی گئی۔

دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ جاری جنگ عالمی تیل کی منڈی کی تاریخ میں سپلائی کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے خام تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، عملی طور پر بند ہونے کے باعث عالمی سپلائی میں تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ادارے کے مطابق ان حالات کے پیش نظر امریکہ سمیت رکن ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، جسے اب تک کا سب سے بڑا ریلیف آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔