صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر چار خودکش ڈرون حملے کیے۔
امریکی صدر کے مطابق ان میں سے ایک ڈرون ایک بڑے اور انتہائی قیمتی مال بردار جہاز کے بالائی حصے سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے باقی تین خودکش ڈرونز کو امریکی افواج نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے جنگ بندی معاہدے کی واضح اور احمقانہ خلاف ورزی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
حملے کے بعد بعض تجارتی جہازوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنی نقل و حرکت محدود کر دی تھی، تاہم بعد ازاں بحری آمد و رفت بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی۔
BREAKING🚨: President Donald Trump just
— OnlyOptionsTrades (@OnlyOTrades) June 26, 2026
stated that Iran “foolishly violated” the U.S. & Iran ceasefire agreement…😳
President Trump accused Iran of a "foolish violation" of ceasefire agreement after Iran shot
at least four one-way attack drones at ships in the Strait of… pic.twitter.com/Qw4HMSAYX5
دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری نقل و حرکت کی نگرانی کرنا اس کا حق ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ایسے اقدامات میں تعاون نہ کریں جو خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت جنگ بندی نافذ کی گئی تھی اور دونوں ممالک نے کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکراتی عمل شروع کیا تھا۔
تاہم آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے اس تازہ واقعے نے جنگ بندی کی پائیداری پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب کہ خلیجی ممالک بھی ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔






