ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے لیے اپنے “زیادہ سے زیادہ مطالبات” سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے، اور یہی رویہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دراصل امریکا کی ایران کے خلاف جارحیت کا تسلسل ہے، جبکہ اس سے قبل یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی بحری تجارت کے لیے ایک محفوظ راستہ سمجھی جاتی تھی۔ ان کے مطابق ایران ہمیشہ اس خطے میں امن اور بحری سلامتی کا ضامن رہا ہے۔

ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ جہازرانی سے متعلق بین الاقوامی ادارے اور شپنگ کمپنیاں اس بات سے آگاہ ہیں کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے متعلقہ فریقین سے رابطے اور طے شدہ پروٹوکولز پر عمل ضروری ہوتا ہے،ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ کے ساحلی ممالک ہیں اور یہاں کسی بھی نظام کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکا نے نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ بین الاقوامی پانیوں میں بھی سکیورٹی خدشات پیدا کیے ہیں، جس سے عالمی بحری نظام متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور ملک صرف اسی معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے جس کا تعلق جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے سے ہو۔

مزید پڑھیں: جرمنی سے امریکی فوجیوں کی واپسی، ’یورپ کو اپنی سکیورٹی کا خیال خود رکھنا ہوگا

ایرانی ترجمان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل ایران کے خلاف بے بنیاد دعوے دہرا رہا ہے تاکہ خطے میں دباؤ برقرار رکھا جا سکے، ایران اپنی پالیسی کے تحت آبنائے ہرمز میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے عمان کے ساتھ مل کر جہازرانی کے محفوظ پروٹوکولز پر مذاکرات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ عالمی توانائی اور تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔