سمندری نگرانی کے اداروں اور قطر کے مطابق منگل کو چند گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک قطری ایل این جی بردار جہاز بھی شامل تھا۔
برطانوی سمندری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق رات کے وقت ایک آئل ٹینکر نامعلوم میزائل کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں مزید دو جہازوں پر حملے کیے گئے، جن میں سے کم از کم ایک کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ایک ہفتے سے زائد عرصے کے نسبتاً سکون کے بعد ہونے والے ان حملوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی سے متعلق خدشات کو دوبارہ جنم دے دیا ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی ختم کر دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق تینوں جہاز عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنے۔ عمان نے اپنی ساحلی پٹی کے ساتھ عارضی بحری راہداری قائم کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم ایران نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔
قطر نے اپنے ایل این جی بردار جہاز پر حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے تمام اقدامات فوری طور پر بند کرے جو علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
The targeting of the Qatari vessel "Al-Rekayyat" while transiting near the Strait of Hormuz constitutes an unacceptable attack on the security & safety of international maritime navigation, the security of global energy supplies, & a grave & explicit violation of international…
— د. ماجد محمد الأنصاري Dr. Majed Al Ansari (@majedalansari) July 7, 2026
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے قریب سفر کے دوران قطری جہاز الرقیات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی پر ناقابلِ قبول حملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطر اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات اور ممکنہ اثرات کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد کرتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے۔ یہ تنازع فروری کے آخر میں تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔
خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات کی مرکزی گزرگاہ آبنائے ہرمز کا مستقبل تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کا ایک اہم اور متنازع موضوع بنا ہوا ہے، جن کا مقصد اس تنازع کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔
کنگز کالج لندن کے سکیورٹی امور کے ماہر آندریاس کریگ کے مطابق ایران واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی متبادل بحری انتظام کو قبول نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو آئل ٹینکر ایرانی حکام کے ساتھ رجسٹریشن کے بغیر عمان کی مجوزہ بحری راہداری استعمال کریں گے، انہیں سزا دی جا سکتی ہے، جو جنگ بندی معاہدے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر کم از کم دو میزائل داغے، تاہم پینٹاگون نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی تھی، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ سے پہلے کا نظام دوبارہ بحال نہیں ہوگا۔






