امریکی حکام کے مطابق پیر اور منگل کے دوران آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سعودی پرچم بردار خام تیل بردار ٹینکر ویڈیان بھی شامل ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ ٹینکر کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یوکےایم ٹی او) نے بھی تصدیق کی کہ پیر کو عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز کسی پروجیکٹائل کی زد میں آیا، جس سے جہاز میں آگ لگ گئی، تاہم عملہ محفوظ رہا۔

منگل کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک اور آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ برطانوی ادارے کے مطابق جہاز کو ساختی نقصان پہنچا، لیکن نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی سمندری آلودگی کی اطلاع ملی۔ ادارے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بعض حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متعلقہ جہازوں نے ایرانی فورسز کی متعدد وارننگز نظر انداز کیں اور ایرانی حکام کی ہدایات کے برخلاف آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے سفر جاری رکھا۔

امریکی حکام کے مطابق پیر کو نشانہ بننے والے جہازوں میں قطر کا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز الرقیات بھی شامل تھا۔

حالیہ حملوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران کو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے باعث  ایک ہفتے کی مہلت  دی ہے تاکہ سوگ کی مدت کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔

ٹرمپ نے یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، تاہم تہران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر تازہ حملوں نے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے اور فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم تازہ حملوں کے بعد اس جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔