ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ اتوار ہونے والے مذاکرات بنیادی اختلافات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے پر منسوخ کیے گئے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا، نئے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
آبنائے ہرمز؛ ایران کی سب سے بڑی سفارتی طاقت
حالیہ کشیدگی کا سب سے اہم مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران ایران نے اس آبی راستے کو اپنی سب سے بڑی جغرافیائی اور سفارتی طاقت کے طور پر استعمال کیا، جب کہ امریکا اس کی آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے پر زور دیتا رہا۔
گزشتہ ہفتے ایک کنٹینر شپ اور ایک آئل ٹینکر پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
تہران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کیوں برقرار رکھنا چاہتا ہے؟
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری آمدورفت سے متعلق کسی بھی فیصلے میں اس کی رضامندی بنیادی شرط ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کی منظوری کے بغیر اس آبی گزرگاہ کے انتظام میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
تہران کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال ہونے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے، جب کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے انشورنس، ماحولیاتی خدمات اور دیگر انتظامی اخراجات کی مد میں فیس وصول کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ دوسری جانب امریکا اور خلیجی ممالک اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں۔
منجمد ایرانی اثاثے بھی مذاکرات کا اہم محور
ایران کی ایک بڑی ترجیح بیرونِ ملک منجمد اربوں ڈالر کے اثاثوں تک رسائی حاصل کرنا ہے، جو برسوں سے امریکی پابندیوں کی وجہ سے منجمد ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے توقع ظاہر کی ہے کہ قطر میں موجود کم از کم 6 ارب ڈالر جلد جاری کیے جائیں گے۔ تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ رقم صرف اسی صورت میں دستیاب ہوگی جب ایران مفاہمتی یادداشت کی تمام شرائط پر مکمل عمل کرے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ فنڈز زرعی اجناس، خوراک اور ادویات کی خریداری پر خرچ ہوں گے، جب کہ ایران کے مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ معاہدے میں امریکا سے اشیا خریدنے کی کوئی لازمی شرط شامل نہیں۔
ایران کی دیگر اہم شرائط کیا ہیں؟
ممکنہ مذاکرات میں ایران صرف مالی معاملات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ امریکا سے کئی بنیادی ضمانتیں بھی چاہتا ہے۔ ان میں ایران کی خودمختاری کا احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، نئی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں کمی، اقتصادی بحالی کا پیکج، جنگی نقصانات کے ازالے پر بات چیت اور مستقبل کے تنازعات کے حل کے لیے مستقل نگرانی اور تنازعات کے تصفیے کا نظام شامل ہے۔
لبنان کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ
ایران کے لیے لبنان بھی مذاکرات کا مرکزی موضوع بن چکا ہے۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی ہونا تھی، لیکن حالیہ امریکا۔لبنان۔اسرائیل فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کا پابند نہیں بنایا گیا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ اصل مفاہمتی یادداشت کی روح کے خلاف ہے کیونکہ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان میں موجود ہے اور حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب لبنانی حکومت اس معاہدے کو ریاستی خودمختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دے رہی ہے، جب کہ حزب اللہ نے اسے مسترد کر دیا ہے۔
🚨 TRUMP TEAM BACK AT THE TABLE WITH IRAN IN QATAR
— Gunther Eagleman™ (@GuntherEagleman) June 30, 2026
High-level talks underway in Doha as the U.S. pushes for denuclearization of Iran. Jared Kushner and Steve Witkoff representing the Trump administration.
President Trump: “We are winning militarily… It is denuclearization of… pic.twitter.com/AuyGlBBQwZ
جوہری پروگرام؛ سرخ لکیر؟
اگرچہ ابتدائی مفاہمتی یادداشت میں ایران کے میزائل پروگرام کو مذاکرات سے خارج رکھا گیا ہے، لیکن تہران کے اندر اب یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ مستقبل میں جوہری پروگرام پر بھی کسی قسم کے مذاکرات نہ کیے جائیں۔
ایران کی طاقتور مجلسِ خبرگان کے 60 سے زائد ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم لیڈر کی سرخ لکیروں سے تجاوز نہ کیا جائے، جن میں جوہری حقوق، آبنائے ہرمز، پابندیوں کا خاتمہ، جنگی ہرجانے اور شہید ہونے والی قیادت کے معاملے پر سخت مؤقف شامل ہے۔
اس کے باوجود ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر مرحلہ وار پابندیاں ختم ہوں اور معاشی فوائد کی واضح ضمانت دی جائے تو وہ اپنے جوہری پروگرام میں محدود رعایتوں پر غور کر سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
حالیہ فوجی جھڑپوں نے امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن دونوں ممالک ابھی مکمل تصادم سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آئندہ کسی بھی مذاکرات کا اصل مرکز نئے معاہدے کے بجائے پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد ہوگا۔
فی الحال آبنائے ہرمز، منجمد اثاثے، لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، امریکی پابندیاں اور ایران کی خودمختاری وہ اہم نکات ہیں جن پر پیش رفت کے بغیر واشنگٹن اور تہران کے درمیان پائیدار سمجھوتہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔






