امریکا نے بحری ناکہ بندی دوبارہ کیوں نافذ کی؟

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی افواج نے ایران کے ساحلی علاقوں اور فوجی اہداف پر ایک نئی کارروائی کی۔

اس کے ساتھ ہی ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی بحری نقل و حرکت پر دوبارہ پابندیاں نافذ کر دی گئیں تاکہ ایران کی عسکری صلاحیت اور سمندری کارروائیوں کو محدود کیا جا سکے۔

امریکی حملوں میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟

امریکی حکام کے مطابق سات گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے قریب میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرون بیسز، ساحلی دفاعی نظام اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ چابہار میں ایک بحری نگرانی کے ٹاور اور صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے بمپور میں بھی حملے کیے گئے، جن میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔

ایران نے کس طرح جواب دیا؟

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیے۔

کویت نے بحری جہاز کو نقصان پہنچنے اور اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، جب کہ اردن نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل مار گرائے۔ بحرین میں بھی فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر یہاں کشیدگی برقرار رہی یا نقل و حمل مزید متاثر ہوئی تو عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔

دونوں ممالک کا مؤقف کیا ہے؟

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے امن کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے فوراً بعد اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور اسی لیے معاہدہ اب مؤثر نہیں رہا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور تجارتی جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کی جا رہی ہیں، جب کہ ایران پر الزام ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک اپنی موجودہ عسکری حکمتِ عملی پر قائم رہے تو خلیج میں مزید فوجی کارروائیاں، توانائی کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی ممالک کی سلامتی کو نئے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، تاہم زمینی صورتحال اس وقت مذاکرات کے بجائے بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کی نشاندہی کر رہی ہے۔