اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں اور دنیا اب پہلے سے زیادہ محفوظ مقام ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز تقریباً تین ماہ تک امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث بند رہی تھی، تاہم گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد اسے مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اعلیٰ سطح کی جوہری نگرانی قبول کر لی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کا یہ اقدام جوہری شفافیت کو یقینی بنائے گا اور اگر تہران اس پر آمادہ نہ ہوتا تو مذاکرات آگے نہ بڑھ سکتے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے اہم رعایتوں کے بعد امریکا نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور مزید بحری ناکہ بندی نہیں کی جائے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ کے جہاز بدستور اپنی پوزیشنز پر موجود رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جا سکے، اگرچہ بظاہر اس کے امکانات کم ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کی جانے والی رقوم ایک ایسے ایسکرو اکاؤنٹ میں رکھی جائیں گی جو امریکا کے کنٹرول میں ہوگا۔

ان کے مطابق یہ رقم صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کی جا سکے گی، جب کہ یہ اشیا خصوصی طور پر امریکا سے حاصل کی جائیں گی، جن میں مکئی، گندم اور سویابین شامل ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ان اشیا کی فوری ضرورت ہے اور موجودہ صورتحال ایک انسانی بحران کی عکاسی کرتی ہے، جس کے پیش نظر فوری امداد ضروری ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اطمینان بخش انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔