انڈیا کی وزارتِ بندرگاہ و جہازرانی کے خصوصی سیکریٹری راجیش کمار سنہا نے ہفتہ کے روز نئی دہلی میں میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ دونوں ٹینکرز صبح سویرے آبنائے ہرمز عبور کر کے بحفاظت انڈیا کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ماہ ایران پر حملوں کے بعد تہران نے اس اہم سمندری راستے پر جہازوں کی آمد و رفت بڑی حد تک محدود کر دی تھی۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور سمندری راستے سے آنے والی ایل این جی کی تجارت ہوتی ہے۔
جنگی صورتحال کے باعث انڈیا میں گھریلو استعمال کی گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، حالانکہ بھارت کے ایران کے ساتھ طویل عرصے سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔
دوسری جانب انڈیا میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے کہا ہے کہ تہران نے غیر معمولی طور پر کچھ انڈین جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم انہوں نے اس رعایت کے تحت گزرنے والے جہازوں کی درست تعداد نہیں بتائی۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے توانائی کی ترسیل کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم انڈیا نے اس معاملے میں خصوصی رعایت کی درخواست کی تھی۔
انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حال ہی میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا جس میں خلیجی خطے سے توانائی اور تجارتی سامان کی ترسیل پر بات چیت کی گئی۔
مزید پڑھیں: ترکیے کے بحری جہاز کو آبنائے ہُرمُز سے گزرنے کی اجازت مل گئی
ادھر انڈین حکومت نے ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت دی ہے، جب کہ صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی محدود کر دی گئی ہے تاکہ 33 کروڑ سے زائد گھروں کو گیس کی فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔
انڈیا کی وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق ایسے صارفین جن کے گھروں میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) موجود ہے انہیں ایل پی جی سلنڈر رکھنے یا دوبارہ بھرانے کی اجازت نہیں ہوگی، اور سرکاری آئل کمپنیاں ایسے صارفین کو نئے ایل پی جی کنکشن بھی فراہم نہیں کریں گی۔







