ایرانی حکام کے مطابق پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد گزشتہ تین ہفتوں میں 200 سے زائد غیر ملکی جہازوں نے محفوظ گزرگاہ کے لیے اتھارٹی سے رجوع کیا۔
اتھارٹی کے مطابق بیشتر جہازوں کو نہ صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی بلکہ انہیں انشورنس کوریج بھی فراہم کی گئی، تاہم اس حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ ایران نے رواں سال پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی قائم کی تھی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری کے دعوے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں تھی بلکہ صرف انہی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی تھی جو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرتے تھے۔
حالیہ امریکی فضائی حملوں کے بعد خلیج میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی، تاہم بین الاقوامی شپنگ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں محدود پیمانے پر بحری آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد تجارتی جہاز ایرانی حکام سے رابطے کے بعد محتاط انداز میں اس راستے سے گزر رہے ہیں، جب کہ کئی بڑی شپنگ کمپنیاں اب بھی متبادل راستوں کے استعمال یا سفر مؤخر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کھلی رہے گی اور امریکا بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔






