برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطری وزیراعظم نے خطے کی تازہ صورتحال، ایران اور امریکا کے تعلقات، بحری سلامتی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق اہم امور پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا غیر یقینی صورتحال پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان قائم ہاٹ لائن یا براہِ راست رابطے کا نظام غلط فہمیوں کو ختم کرنے اور کسی بھی غیر متوقع واقعے کو بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر خطے میں کشیدگی کو ہوا دے کر جاری سفارتی پیش رفت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے بروقت اور مستند رابطہ انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی بحری جہاز کو دھمکی موصول ہوتی ہے یا کسی قسم کی سیکیورٹی تشویش پیدا ہوتی ہے تو ایسے معاملات کی تصدیق براہِ راست ایران سے ہونی چاہیے تاکہ افواہوں، غلط معلومات اور اشتعال انگیزی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

قطری وزیراعظم نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا محصول عائد کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے تو اسے پہلے اس کے حق میں مضبوط دلائل دینا ہوں گے۔ تاہم قطر فی الحال ایسے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا اور اس معاملے کا جائزہ بین الاقوامی قوانین اور علاقائی مفادات کو مدنظر رکھ کر لیا جائے گا۔

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ دنیا تک رسائی کے واحد اہم بحری راستے پر کسی ایک ملک یا فریق کا مکمل کنٹرول قابلِ قبول نہیں ہو سکتا،  عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور علاقائی معیشتوں کا انحصار آزاد اور محفوظ بحری راستوں پر ہے، اس لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے امید ظاہر کی کہ آنے والے 30 دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں جنگ سے قبل کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بحری تجارت اور تیل و گیس کی ترسیل معمول پر آنے کے امکانات روشن ہیں۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز پر کوئی ملک ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

قطری وزیراعظم نے توانائی کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر چند ہفتوں کے اندر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار اور برآمدات کو مکمل طور پر معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم اس منصوبے کا انحصار خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں استحکام پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قطر عالمی توانائی منڈیوں میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک کو گیس کی فراہمی میں اس کا حصہ نمایاں ہے۔ اسی وجہ سے قطر خطے میں امن، استحکام اور محفوظ بحری راستوں کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔

قطری وزیراعظم کے مطابق موجودہ حالات میں سفارتکاری، مذاکرات اور باہمی رابطے ہی وہ مؤثر ذرائع ہیں جن کے ذریعے خطے کو مزید کشیدگی سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تمام متعلقہ فریق تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے فیصلے کریں گے جو نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی معیشت کے مفاد میں ہوں۔