عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل پر عائد کی گئی پابندیوں کے تناظر میں عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے تیل کمپنیوں کے کارکنوں سے خطاب کیا۔
وینزویلا کی نگراں صدر نے پہلی بار سخت لہجے میں کہا کہ اب بہت ہو چکا، امریکا کے احکامات کی حد ختم ہو گئی ہے۔ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وینزویلا کو غیر ملکی طاقتوں کی بار بار مداخلت کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے اور اب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رہی۔
#BREAKING Venezuela s acting president Delcy Rodriguez says she has had "enough" of orders from Washington.
— AFP News Agency (@AFP) January 26, 2026
"Enough orders from Washington on politicians in Venezuela. Let Venezuelan politics resolve our differences and internal conflicts. Enough of foreign powers" pic.twitter.com/NfoSsFojfs
ڈیلسی روڈریگز کا کہنا تھا کہ اگر بیرونی دباؤ اور مداخلت ختم ہو جائے تو وینزویلا نہ صرف ملک میں امن و استحکام قائم کر سکتا ہے بلکہ ہر بحران سے نکلنے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے صدارتی محل سے اہلیہ سمیت گرفتار کیا تھا۔
امریکی اہلکار صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ہیلی کاپٹر تک لے گئے، جہاں سے انہیں بحری جہاز کے ذریعے امریکا منتقل کیا گیا۔
BASTA, ENOUGH ORDERS FROM TRUMP — Venezuela interim President to oil monopoly workers pic.twitter.com/zd0b2UScEo
— RT (@RT_com) January 26, 2026
بحری جہاز کے ذریعے طویل سفر کے بعد صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکا پہنچایا گیا اور نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
امریکی عدالت میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات اسمگلنگ اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت سماعت کی گئی۔
صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ گرفتاری نہیں بلکہ اغوا ہے، جس کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔






