افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ عمل افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور ناقابلِ قبول ہے۔
ترجمان طالبان نے کہا کہ جس طرح پاکستان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو، اسی طرح ہم نے بھی استنبول مذاکرات میں پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اپنی زمین اور فضائی حدود افغانستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ امریکی ڈرون افغانستان کی فضاؤں میں داخل ہو رہے ہیں اور وہ پاکستانی فضائی حدود سے گزر کر آتے ہیں۔ یہ رویہ افغان خودمختاری کے منافی ہے۔
ترجمان نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ عناصر جو ماضی میں افغانستان کے مخالف رہے یا بگرام بیس پر قابض ہونے کے خواہاں تھے، اب خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، یہ قوتیں براہِ راست سامنے نہیں آتیں بلکہ دوسروں کے ذریعے اشتعال انگیزی اور دباؤ کی پالیسی اپناتی ہیں، مگر ہم کسی بھی سازش کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہیں اور خطے میں کسی غلط عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
استنبول مذاکرات کے حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، جس پر افغان وفد نے یقین دلایا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور پاکستان کے اندرونی معاملات پاکستان کو خود دیکھنا ہوں گے۔
دوسری جانب، آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس میں طالبان حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کا ایسا معاہدہ موجود نہیں جس کے تحت امریکی ڈرون پاکستان کی فضائی حدود استعمال کر سکیں۔
پاک فوج ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم نے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت بھی درج نہیں کرائی۔







