افغان میڈیا نے طالبان کی وزارتِ خزانہ کے ایک عہدیدار سمیت مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکم تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں پر لاگو ہوتا ہے، جب کہ طالبان حکام نے اس فیصلے کی وجہ سے متعلق تاحال کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی اور نہ ہی تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب دیا۔
اگرچہ اس سے قبل بھی طالبان کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی رہی ہے تاہم افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی کو باضابطہ طور پر بغیر کسی متعین تاریخ کے مکمل طور پر معطل کیا گیا ہے۔
Taliban have suspended the payment of salaries to all public employees until further notice, three sources said, including one official from the Taliban-run Ministry of Finance.https://t.co/HKW8k7zeJe pic.twitter.com/ELDjyAWFoX
— Amu TV English (@AmuTVEnglish) December 25, 2025
کچھ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ تازہ معطلی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سردیوں کے باعث بیشتر خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، ایک سرکاری ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ ہماری تنخواہیں اور مراعات محدود ہیں لیکن ان کی ادائیگی سے کم از کم گھر کا کرایہ اور بنیادی گھریلو ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔
افغانستان 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث سرکاری شعبے کے ملازمین بجٹ کی کمی، امداد میں کٹوتیوں، بینکاری پابندیوں اور بین الاقوامی فنڈنگ میں رکاوٹوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔






