رپورٹ کے مطابق افغانستان نے 100 میں سے صرف 16 پوائنٹس حاصل کیے اور 182 ممالک میں 169 ویں نمبر پر رہا، جبکہ گزشتہ سال اس کا اسکور 17 اور رینکنگ 165 تھی، جو مزید تنزلی کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا سی پی آئی عوامی شعبے میں بدعنوانی کے تاثر کو صفر (انتہائی بدعنوان) سے 100 (انتہائی شفاف) کے پیمانے پر جانچتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سمیت کئی ممالک میں بدعنوانی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں شہری آزادی، شفاف سیاسی نظام اور آزاد عدلیہ محدود ہے۔

دوسری جانب دنیا کے کم بدعنوان ممالک میں ڈنمارک، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور ناروے سرفہرست رہے، جبکہ جنوبی سوڈان، صومالیہ، وینزویلا، یمن اور لیبیا کو سب سے زیادہ بدعنوان ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی اوسط سی پی آئی اسکور کم ہو کر 42 رہ گیا ہے، جو گزشتہ دہائی میں پہلی بار اس سطح تک پہنچا ہے، اور یہ دنیا بھر میں بدعنوانی کے خلاف کمزور ہوتے اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے۔