رپورٹس کے مطابق حملوں میں قندھار ہوائی اڈے سمیت قندھار میں واقع اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد شدت پسندوں کے کمانڈ مراکز اور ایسے ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا جہاں مبینہ طور پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی افواج نے کابل کے علاقے پلِ چرخی میں واقع بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جس کے بعد علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

افغان ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے کابل، خوست اور قندھار میں مبینہ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز پر بمباری کی۔

ان رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان انتظامیہ کالعدم تنظیموں کے کمانڈروں اور جنگجوؤں کو پناہ دے رہی تھی جن میں تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، دولتِ اسلامیہ، بلوچستان لبریشن آرمی اور حافظ گل بہادر گروپ شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق قندھار میں 205ویں البدر کور کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا جو افغانستان کی امارتِ اسلامیہ کا ایک اہم عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں طالبان کے کئی عہدیدار زخمی ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کور کمانڈر مہراللہ حمد، چیف آف اسٹاف حزب اللہ افغان اور نائب کمانڈر ولی جان حمزہ شدید زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے قندھار کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

ان حملوں کے بعد قندھار ہوائی اڈے اور قریبی فوجی تنصیبات کے اطراف بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ علاقوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا اور سکیورٹی فورسز نے اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا۔

اسی دوران کابل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جب مبینہ طور پر پاکستانی افواج نے پلِ چرخی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

تاہم اب تک جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ رپورٹس کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں جاری سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کی گئی ہیں جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔