افغانستان قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں صوبہ ہرات کے کابکان ضلع میں ایک مکان کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے 5 افراد بھی شامل ہیں، جن میں 2 بچے تھے۔
شدید بارش اور سیلاب کے باعث وسطی، شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، مویشی ہلاک ہوئے اور قریباً 1,800 خاندان متاثر ہوئے، جس سے پہلے ہی نازک حالات میں زندگی گزارنے والی شہری اور دیہی آبادی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں جائزہ ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں اور متاثرین کی مدد کے لیے سروے کا عمل جاری ہے۔
حکام کے مطابق دہائیوں پر محیط تنازعات، کمزور انفراسٹرکچر، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ کیا ہے، بالخصوص دور دراز علاقوں میں جہاں زیادہ تر مکانات مٹی سے بنے ہیں اور اچانک سیلاب کے سامنے بے بس ثابت ہوتے ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں بھی افغانستان دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں شامل رہے گا۔ اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں نے ملک میں قریباً 18 ملین افراد کی فوری مدد کے لیے 1.7 بلین ڈالر کی اپیل بھی کی ہے۔







