خبر رساں ادارے العربیہ کے مطابق تاجکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پائی جاتی ہے اور حالیہ مہینوں میں کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
تاجک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ حملہ 26 نومبر کی رات اس وقت ہوا جب یہ کیمپ سرحدی تحفظ کے لیے تعینات یول بارڈر ڈی ٹیچمنٹ کی پہلی پوسٹ استقلول کے ماتحت علاقے میں معمول کی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔
حکام کے مطابق حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا جسے دستی بموں اور جدید آتشیں اسلحے سے لیس کیا گیا تھا۔
تاجک وزارتِ خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں تینوں چینی شہری موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جب کہ حملہ آور رکش بیس کی جانب سے فرار ہوگئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تاجکستان، باوجود اس کے کہ وہ دونوں ممالک کی سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے، افغان سرزمین پر سرگرم جرائم پیشہ اور دہشت گرد گروہ بدستور تخریبی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاجک حکومت نے اس واقعے پر گہری تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں سلامتی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، تاکہ آئندہ اس نوعیت کے خطرناک حملوں کا سدباب کیا جا سکے۔
دوسری جانب چین نے اس حملے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرے۔
واضح رہے کہ تاجکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 1,350 کلومیٹر (840 میل) طویل پہاڑی سرحدی علاقے میں متعدد انتہا پسند گروہ سرگرم ہیں۔
مسلم اکثریتی تاجکستان، جو سابقہ سوویت یونین کے غریب ترین ممالک میں سے ہے، طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شدت پسندی کے ممکنہ خطرے کے بارے میں فکرمند ہے۔
صدر امام علی رحمان، جو 1992 سے اقتدار میں ہیں، طالبان پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ وہ تاجک نسل کے حقوق کا احترام کریں، جن کی تعداد افغانستان کی تقریباً 40 ملین آبادی کا ایک چوتھائی ہے۔
تاجک وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں موجود جرائم پیشہ گروہ سرحدی علاقوں میں غیر مستحکم حالات پیدا کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ تاجکستان میں متعدد چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، خاص طور پر کان کنی اور قدرتی وسائل کے شعبے میں، اور یہ اکثر پہاڑی سرحدی علاقوں میں واقع ہیں۔ گزشتہ سال بھی افغان سرحد کے قریب ایسے ہی ایک حملے میں ایک چینی کارکن ہلاک ہوا تھا۔






