خبر ایجنسی کے مطابق گنی بساؤ میں اتوار کے روز صدارتی انتخابات منعقد ہوئے تھے، جن کے نتائج کا اعلان آج ہونا تھا۔ صدر اُمارو ایمبیلو اور اُن کے حریف فرنینڈو ڈیاس، دونوں نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رکھا تھا، مگر اعلان سے قبل ہی فوج نے اقتدار پر قبضے کا اعلان کر دیا۔
دارالحکومت بساؤ میں ریاستی ٹیلی ویژن کے ذریعے فوجی افسران نے صدر کو عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام ریاستی ادارے اگلے حکم تک معطل رہیں گے۔
🇬🇼 GUINEA-BISSAU COUP ALERT:
— WADR English (@wadrenglish) November 26, 2025
The military has removed the President Umaro Sissoco Embalo, suspended elections, closed borders, and taken control of state institutions, citing a national security emergency. Full details in the video. pic.twitter.com/beyMEjzuT9
فوج نے بتایا ہے کہ سرحدیں اور فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، ملک میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، اور آئینی نظام کی بحالی تک انتخابی عمل کو تاحکمِ ثانی معطل رکھا جائے گا۔ فوجی افسران نے ایک اعلیٰ فوجی کمان بھی تشکیل دے دی ہے جو ملک کا انتظام و انصرام سنبھالے گی۔
رپورٹس کے مطابق، بغاوت کے اعلان سے کچھ دیر قبل الیکشن کمیشن، صدارتی محل اور وزارتِ داخلہ کے قریب فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہیں۔ تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب صدر کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے الیکشن کمیشن پر حملہ کرکے انتخابی نتائج کے اعلان کو روکنے کی کوشش کی ہے۔







