خبررساں ادارے کے مطابق پارٹی کے اندرونی حالات سے باخبر ذرائع کے مطابق فلوریڈا سے سینیٹر مارکو روبیو بھی 2028 کے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ روبیو نے 2016 میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار گئے تھے۔

روبیو نے 2028 کے انتخابات میں حصہ لینے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، تاہم انہوں نے جے ڈی وینس کو ایک ممکنہ مضبوط امیدوار قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے۔

بدھ کو این بی سی  نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں، جب ڈونلڈ ٹرمپ سے وینس اور روبیو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے جانشین کی حمایت کی طرف مائل ہوں گے، لیکن فی الحال اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تین سال باقی ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میرے پاس دو ایسے لوگ ہیں جو شاندار کام کر رہے ہیں۔ میں ان کے درمیان کسی  لڑائی  یا مقابلے کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا، یہ کوئی لڑائی نہیں ہوگی۔ لیکن دیکھیں، جے ڈی بھی لاجواب ہیں اور مارکو بھی لاجواب ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دونوں شخصیات کے ایک ساتھ انتخابی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی بات کی اور کہا کہ 2028 کے انتخابات ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جانب سے انتہائی سخت مقابلہ ہوں گے۔

مارکو روبیو کی طرف ممکنہ اشارہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں کہوں گا کہ ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت تھوڑا زیادہ سفارتی (ڈپلومیٹک) ہے۔ انہوں نے دونوں کو انتہائی ذہین قرار دیا اور کہا کہ دونوں کے انداز میں فرق ہے، لیکن دونوں ہی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ جے ڈی اور مارکو کا اتحاد، میرے خیال میں، شکست دینا مشکل ہوگا۔ لیکن سیاست میں کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہے؟

انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر غیر آئینی طور پر تیسری مدت کے لیے صدر بننے کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، یہ ایک دلچسپ بات ہو گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جنوری 2029 میں بھی صدر رہنے کا کوئی منظرنامہ دیکھتے ہیں۔