عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پے  بتایا کہ تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادی ممالک کو اس حوالے سے یہ پیغام دے دیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے سربراہ علی لاریجانی نے قطر کے وزیرِ خارجہ سے بات کی، جب کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اماراتی اور ترک ہم منصبوں سے گفتگو کی۔ یہ تمام ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اماراتی وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید کو بتایا کہ ’ملک میں امن قائم ہو چکا ہے‘ اور ایرانی عوام غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکا قطر میں اپنے العدید ایئر بیس پر موجود اہلکاروں کی تعداد کم کر رہا ہے، جب کہ حکام نے اس اقدام کو ’احتیاطی تدبیر‘ قرار دیا ہے۔

العُدید ائیر بیس سے بعض اہلکاروں کے انخلا سے متعلق گردش کرتی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ یہ اقدامات موجودہ علاقائی کشیدگی کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔

آئی ایم او نے اس بات کی توثیق کی کہ ریاستِ قطر اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی اور تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں اہم تنصیبات اور فوجی سہولیات کے تحفظ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔

آئی ایم او نے مزید کہا کہ اگر کوئی نئی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے باضابطہ اور مقررہ ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دیتی ہے تو امریکا ’بہت سخت کارروائی‘ کرے گا۔ اس کو جواب دیتے ہوئے ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔